Wednesday, April 23, 2014

Tehrik-i Taliban Pakistan Statement about Shura Council's Decision to End Truce with the Government


بسم الله الرحمن الرحيم



حركة طالبان باكستان
تحريکِ طالبان پاکستان

بيان حركة طالبان باكستان عن انتهاء الهدنة مع الحكومة الباكستانية بسبب استمرار جرائمها ضد المسلمين

حکومت کی جانب سےجرائم کا سلسلہ جاری رکھنے کی وجہ سے جنگ بندی ختم کرنے کی بابت تحریک طالبان پاکستان کا بیان

----------------

أعلنت حركة طالبان باكستان بانتهاء الهدنة مع الحكومة الباكستانية بسبب عدم إيفاؤها أي شرط واحد ، و استمرارها في العمليات العسكرية والأمنية ، وقتل 50 من الإخوة ، واعتقال أكثر من مائتين من عامة المسلمين، والتعذيب الوحشي على الأسرى المسلمين في السجون.

----------------
البيان باللغة الأردية

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تحریک طالبان پاکستان نےحکومت کے ساتھ نہایت اخلاص اور پوری سنجید گی کیساتھ مذاکرات کاآغازکیا۔ مذاکرات کےتمام مراحل میں لچکدار رویہ پنایا، اورایسےتمام ضروری اقدامات اٹھائے جو ایک کامیاب مذاکرت کےلیےنہایت مضبوط بنیاد فراہم کرسکتے تھے۔

حکومت کی طرف سے یک طرفہ جنگ بندی کےمطالبے پر اختلاف رائے کے باوجودتمام حلقوں کو اس کےلیے آمادہ کیا اوراسلام اور ملک کے مفاد میں قوم کوایک ماہ کی جنگ بندی کاتحفہ دیا تاہم حکومت کی طرف سے تحریک طالبان پاکستان کے ابتدائی ، مناسب اور جائز مطالبات پر اب تک کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ۔

پیس زون ، غیرعسکری قیدیوں کی رہائی اورطالبان مخالف کارروائیاں روکنے کےمطالبات تعلقات میں فروغ اور اعتماد کی بحالی کے لیے معقول اور ٹھوس تجاویز تھیں ،تاہم حکومت کی طرف سے ان پر کسی قسم کے غور کی زحمت نہیں کی گئی ۔


تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے چالیس روزہ جنگ بندی کے تحفے کا جوجواب حکومت کی طرف سے دیاگیا اس کی مختصر صورت حال میڈیا کو پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ پاکستان کے باشعور مسلمانوں پر یہ واضح ہوجائے کہ مذاکراتی عمل میں پیش رفت نہ ہونے کاذمہ دار کون ہے ۔۔۔؟ اور قوم یہ بھی جان لے کہ طالبان کی صفوں میں یکسوئی کافقدان ہے یا حکومتی کیمپ میں فیصلوں کا اختیار کہیں اور ہے ۔۔۔؟


حکومت کی طرف سے خاموشی کیساتھ روٹ آؤٹ کے نام سے جاری آپریشن کی کچھ تفصیل جو مذاکراتی عمل کے دوران حکومتی رویے کی غیر سنجید گی کو اچھی طرح واضح کرتی ہے ۔ درج ذیل ہے:

۱۔ چالیس روزہ جنگ بندی کے دوران تحریک طالبان پاکستان کے نام پر گرفتار
پچاس سے زائد ساتھیوں کو شہید کرکے پھینکا گیا ۔
۲۔ تحریک طالبان پاکستان سے تعلق کے الزام میں دوسو سے زیادہ بے گناہ لوگ
ملک کے مختلف علاقوں میں گرفتار کیے گیے ۔
۳۔ملک کے طول و عرض میں سو سے زیادہ چھاپے مارے گئے ۔
۴۔ مختلف علاقوں میں پچیس سے زیادہ سرچ آپریشن کئے گئے۔
۵ ۔ ملک بھرکی جیلوں میں موجود قیدیوں پر(سوچے سمجھے منصوبے کے تحت) وحشیانہ تشدد کا سلسلہ جاری کیا گیا۔

تحریک طالبان پاکستان نے مذاکرات کی آڑ میں روٹ آؤٹ کے نام سے جاری آپریشن میں بھاری نقصان پرمکمل تحمل اور برداشت کامظاہرہ کیا جبکہ ساتھیوں کے اشتعال کو مکمل قابو میں رکھا اور اس پوری صورت حال سے مذاکراتی کمیٹی کو وقتا فوقتا مطلع کیا اور ان پر واضح کیا کہ یہ مذاکراتی عمل کے لیے سخت نقصان دہ ہے لیکن پیس زون اور غیرعسکری قیدیوں پر پیش رفت تو درکنار طالبان کے خلاف جاری کارروائیوں کو بھی روکنے میں حکو مت نےلمحہ بھر کا توقف گوارانہیں کیا ۔۔۔

سیزفائر میں توسیع کی مدت کوگذرے ہوئے چھے دن گزرنے کےباوجود حکومتی ایوانوں میں مذاکرات کے حوالے سے پراسرار خاموشی طاری ہے اور مجموعی صورت حال یہ واضح کررہی ہے کہ طاقت کے اصل محور متحرک ہوچکے ہیں اور وہ اپنی مرضی کے فیصلے قوم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

لہذا تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی شوری نے مکمل اتفاق سے جنگ بندی کی مدت میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔


تاہم مذاکراتی عمل کو پورے اخلاص اور سنجید گی کے ساتھ جاری رکھا جائے گااور حکومت کی طرف سے واضح پیش رفت سامنے آنے کی صورت میں تحریک طالبان پاکستان کوئی سنجیدہ قدم اٹھانے سے نہیں ہچکچائے گی ۔۔۔

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان

السبت 19 جمادى الاخرة
1435 هـ
19/04/2014

الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}


مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان



المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان

Tuesday, April 22, 2014

Tehrik-i Taliban Pakistan Statement: The TTP has Fulfilled the Conditions, but the Pakistan Government has Not

بسم الله الرحمن الرحيم



حركة طالبان باكستان
تحريکِ طالبان پاکستان

الطالبان أوفت بشرط التهدئة ولكن الحكومة لم توفي بأي شرط واحد، وأثبتت لعالم أنهاهي مرتبكة

طالبان نے جنگ بندی کی شرط کو پورا کیالیکن حکومت نے کسی ایک شرط کو پورا نہ
کرکے دنیا پرواضح کردیا کہ کنفیوژ وہ خود ہی ہے



البيان باللغتين العربية والأردية

----------------



بيان من المتحدث الرسمي لحركة طالبان باكستان ، والذي أخبر أن الحركة أوفت بشرط وقف التهدئة لكن الحكومة لم توفي
بأي شرط من الشرائط التالية :

1.إنشاء منطقة حرة ، يسهل الذهاب والإياب فيها للطرفين بكل سهولة .

2. إطلاق سراح الغير المحاربين بدون أي شروط.

3.إيقاف العمليات في أنحاء البلاد ضد حركة الطالبان

بل الحكومة اتخذت تجاه هذه الشروط حتى الآن الاجراءات التالية:

قدمت قائمة الأسرى الغير محاربين للفريق التفاوضي التابع للحكومة ، ولم يسلم لفريق التفاضي التابع للحركة أي أسير واحد حتى الآن.

بيانات الفريق التفاوضي للحكومة وبعض الحكام الرئيسيين خير دليل على أن المؤسسات الحكومية تنعدم الثقة فيما بينهن

وأما سلسلة عمليات(الاعتقالات، والمداهمات،و تعذيب الأسرى ، والجثث المحروقة) في أنحاء البلاد ، ما زالت مستمرة حتى الآن ،
فهذا لا نتحمل السكوت عليها أبدا ، وهي علامة استفهام على إعلان التهدئة ...؟

فحركة الطالبان اختارت موقف اللين ،والمحاولة الجادة، والإجراءات المخلصة لتوفير حسن الجو للمفاوضات لمصلحة الإسلام وباكستان،
لكنها في المقابل تستلم حتى الآن فقط الاعتقالات،و جثث الإخوة المحروقة، والتعذيب الوحشي على الأسرى....!!

فلهذاتجب على الفئة الواعية والجادة في باكستان أن لا تنسى هذه الحقيقة أبدا ، أن أي الفريقين من الحكومة والطالبان كان جادا ومخلصا في هذه القضية ..؟؟
، ومن كان مرتبكا من الطالبان أو الحكومة في اتخاذ القرارات على الأمور التي تم الاتفاق عليها في المفاوضات ۔۔۔؟؟

----------------


البيان باللغة الأردية

بسم اللہ الرحمن الرحیم

غیر عسکری قیدیوں اور پیس زون کے معاملے پر حکومت کی طرف سے اب تک کوئی پیش رفت نہ ہونا لمحہ ٔفکریہ ،
جبکہ ملک بھر میں ہمارے ساتھیوں کےخلاف بدستورجاری کاروائیاں ناقابل برداشت ہے۔

تحریک طالبان اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں خوشگوار ماحول میں مذاکرات کے انعقاد کے لئے حکومت کی طرف سے
سیزفائر کے مطالبے کو طالبان نے پوری سنجیدگی کے
ساتھ پورا کیا،جبکہ طالبان کی جانب سے پیش کی گئی باتوں پر حکومت مسلسل لیت ولعل سے کام لے رہی ہے.

طالبان کی طرف سے کامیاب مذاکرات کے آغاز کے لئےابتدائی طور پر تین مطالبے پیش کیے گئے تھے:

1.فری پیس زون کا قیام جہاں فریقین کا آمد ورفت بسہولت ممکن ہو۔

2. غیر عسکری قیدیوں کی غیر مشروط رہائی۔

3.پورے ملک میں تحریک طالبان کے خلاف جاری کاروائیوں کی فوری روک تھام۔

جبکہ ان تینوں معاملات میں حکومتی پیش رفت کی پوزیشن یہ ہے:

غیر عسکری قیدیوں کی فہرست حکومتی کمیٹی کے حوالے کیا گیاتاہم اب تک کوئی قیدی ہماری کمیٹی کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔

پیس زون کے قیام پر حکومتی کمیٹی اور بعض اعلی حکام کے بیانات حکومتی اداروں کے مابین عدم اعتماد کا واضح مظہر ہے ۔

جبکہ ملک بھر میں طالبان کے خلاف کاروائیاں (گرفتاریاں،چھاپے،قیدیوں پر تشدد اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے سلسلے ۔۔۔)بھی بدستور
جاری ہیں جو ناقابل برداشت اور سیز فائر پر سوالیہ نشان ہے۔۔۔؟

تحریک طالبان نے اسلام اور پاکستان کے مفاد کی خاطر مذاکرات میں بہتر ماحول کی فراہمی کی خاطر لچکدار رویہ ،سنجیدہ کوشش اور مخلصانہ اقدامات
اٹھائے جبکہ جواب میں اب تک گرفتاریاں،ساتھیوں کی مسخ شدہ لاشیں اورقیدیوں پر وحشیانہ تشدد کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔۔۔۔۔!!

پاکستان کے باشعور اور سنجیدہ طبقے کو یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرناچاہئے کہ اس معاملے میں حکومت اور طالبان میں کون زیادہ سنجیدہ اور مخلص ہے۔۔؟
اور یہ کہ مذاکرات میں طے پانے والے امور پر فیصلوں میں انتشار اور کنفیوژن کاشکار طالبان ہیں یا حکومت۔۔۔؟؟

شاہد اللہ شاہد
مرکزی ترجمان تحریک طالبان


الخميس 10 جمادى الاخرة 1435 هـ
10/04/2014

الله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}

مؤسسة عمر للإعلام
ادارہ عمر برائے نشرواشاعت

حركة طالبان باكستان
تحریکِ طالبان پاکستان



المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلان