Thursday, October 2, 2014

Mullah Muhammad 'Umar's 'Eid al-Adha 1435 Message (English, Pashto, Dari, Arabic, Urdu)











عیدالاضحی کی مناسبت سے عالیقدر امیر المومنین ملاعمرمجاہد حفظہ اللہ کا پیغام


بسم الله الرحمن الرحيم

الله أکبر الله أکبر، لا إله إلا الله والله أکبر، الله أکبر ولله الحمد

الحمد لله وحده، نصر عبده وأعز جنده وهزم الأحزاب وحده لا إله إلا الله ولا نعبد إلا إياه مخلصين له الدين ولو كره الكافرون, والصلوة والسلام علی من لا نبی بعده وعلی آله وصحبه أجمعين وبعد :

فقال الله جل وعلا: } وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ { الأنفال. 26

افغانستان کے مومن اور مجاہد عوام !عزت اور آزادی کی خاطر لڑنے والے مجاہدو !اور دنیا کے تمام مسلمان بھائیواور بہنو! سب کو عیدالاضحی مبارک ہو۔ اللہ تعالی جل جلالہ اس کی رضا کی خاطر ہونے والی آپ کی تمام طاعات اور قربانیاں اللہ تعالی قبول فرمائے ۔

مجاہد عوام!

جارحیت کے خلاف آپ لوگوں کے جہاد اور بے دریغ قربانیوں نے اللہ جل جلالہ کی نصرت سے امریکیوں اور ان کے مغربی اتحادیوں اور داخلی حامیوں کو شکست سے دوچار کردیا ہے ۔ افغانستان کے لیے ان کی ساری سٹریٹجی غیر موثر اور سیاسی کوششیں ناکامی کے ساتھ ساتھ واضح شکست اور رسوائی کا شکار ہوگئیں ۔ امریکا کی قیادت میں ویلز میں ناٹو کا بے نتیجہ سربراہی اجلاس، افغانستان میں انتخابات کے عنوان سے حالیہ رسوائی اور امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی مسلسل پیش رفت اس کا واضح ثبوت ہے ۔

قابل قدر ہم وطنو!

آج آپ جان گئے ہوں گے کہ امریکی جارحیت پسندوں نے آپ لوگوں پر کتنے نااہل اور غیروں کے مفادات کے وفادار لوگوں کو مسلط کردیا ہے ۔ اور 13 سالوں کے اس دورانیے میں آپ نے دیکھ لیا کہ جارحیت پسند اور ان کے داخلی مزدوروں کی جانب سے عوام پر کتنے مظالم ڈھائے گئے۔

جارحیت کے سائے تلے انتخابات کے طویل سلسلے نے دکھا دیا کہ ہر دن کے گذرنے کے ساتھ جارحیت پسندوں کے اعتماد اور حیثیت کو اور بھی زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ عالمی دنیا اور افغان عوام نے دیکھ لیا کہ انتخابات کے نام پرجوپروپیگنڈا کیا جارہا تھا وہ محض عوام کے بہلانے کے لیے تھا ۔ افغانوں کے ووٹ کی حیثیت محض نمائشی رہی ۔ امریکی آج اپنی تاریخ کی سب سے طویل ترین جنگ میں مصروف ہیں ۔اس جنگ کے بےا نتہا عسکری اور اقتصادی نقصانات اور عالمی سطح پر امریکی حیثیت میں کمی یہ سب امریکی زوال کے علامات ہیں ۔ وہائٹ ہاوس کے جھنجھلائے ہوئے حکام مایوسی کی حالت میں اس ناکام جنگ کو جیتنے کی کوششیں کررہے ہیں ۔ مگران کی جیت کے سارے امکانات معدوم ہوچکے ہیں ۔ اور جن داخلی لوگوں کو وہ مجاہدین کے خلاف لڑاتے ہیں وہ بھی اپنا حوصلہ ہار چکے ہیں اور آپس کے گہرے اختلافات کا شکار ہیں ۔

مجاہدین بھائیو!

دشمن کو مزید دباو میں لانے اور جہادی مزاحمت سے مطلوبہ نتائج مزید اچھے طریقے سے حاصل کرنے کے لیے ذیل کی ہدایات پر خصوصی توجہ دیں ۔

اپنے جہادی صف کے اتحاد پر خصوصی متوجہ دیں ۔ عوام کے ساتھ اچھے اخلاق ، نرمی اور قریبی تعلقات کا سلسلہ اور بھی مضبوط کریں ۔ کیوں کہ اللہ تعالی کی مدد کے بعد ہماری تمام ترجہادی کامیابیاں اسی عوامی حمایت کا نتیجہ ہیں ۔ اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا} هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ. { الأنفال ۶۲ .

ترجمہ :"اللہ تعالی وہی ذات ہے جس نے اپنی مدد اور مومنوں کے وسیلے سے آپ کی مدد کی "۔ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عام مسلمانوں کا تعاون حاصل کرنا کامیابی کے حصول کے لیے انتہائی اہم ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ایک انعام کی طرح سے اس کا ذکر کیا ہے ۔ اس لیے مجاہدین اور عوام جہادی امور کی پیش رفت کے لیے نظریے اور عمل کا اتحاد برقرار رکھیں ۔ انشاء اللہ جہادی کامیابیوں کا گراف اور بھی اونچا ہوگا اور دشمن پر اس کا اثر اور بھی زیادہ ہوگا ۔

چونکہ جارحیت پسندوں کو شکست کا سامنا ہے اس لیے اب وہ ان کوششوں میں ہیں کہ افغان عوام کے درمیان مختلف تنظیمی ، قومی ، علاقائی اور مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر ان کو آپس میں لڑائیں اور ان سے اپنی شکست کا بدلہ لیں ۔ ہمارے باشعور عوام اور مجاہدین کو کوشش کرنی چاہیے کہ دشمن کی یہ سازشیں ناکام بنادیں اور ایسے تمام امور سے بچیں جس سے افغان عوام کی یکجہتی کو نقصان ہو ۔

جارحیت پسند امریکا اور اس کے اتحادیوں سے ہمارے جہاد کا مقصد اللہ تعالی کی رضا کا حصول، اسلامی نظام کی حاکمیت ، جارحیت کا خاتمہ ، ملک کا دفاع اور بلاتفریق مصیبت زدہ عوام کی خوشحالی ہے ۔ لہذا مجاہدین اپنے تمام جہادی پروگراموں کو اس طرح سے مرتب کریں کہ جس سے درجہ بالا اہداف کا حصول یقینی ہو ۔

جہادی اور جنگی کامیابیوں کے لیے وہ تمام کوششیں جاری رکھیں جس سے جہاد کی صف میں قوت اور اتحاد پیدا ہو۔ امریکی اور داخلی جنگجووں کی صفوں میں داخل ہونے والے مجاہدین کے لیے حالات اور وسائل کی دستیابی اور دشمن کی صفوں سے بلند رتبہ حکام اور سیکیورٹی اہلکاروں کی دعوت کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھیں ۔ دشمن کی صفوں میں موجود مجاہدین کے گھروں اور بچوں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیں ، اور جولوگ دشمن کی صف سے علیحدہ ہوکر آئیں ان کو امن کے ساتھ اپنی بساط کے مطابق باعزت زندگی کے اسباب مہیا کریں ۔

امارت اسلامیہ عسکری کوششوں کے ساتھ ساتھ بااعتماد عالمی جہات کے ساتھ مثبت روابط قائم کرکے بلند اہداف تک رسائی کی کوششیں کررہی ہے ۔ ہم نے اپنی آئندہ کی پالیسی کے حوالے سے اپنے نشریاتی ذرائع اور سیاسی دفتر کے ذریعے عالمی دنیا کو اپنا پیغام پہنچادیا ہے ۔ سیاسی حوالے سے تمام بیرونی اور داخلی حلقوں سے رابطوں اور تعلقات کا قیام صرف اور صرف سیاسی دفتر کی ذمہ داری ہے ۔ قیادت کی اجازت کے بغیر کسی شخص یا ادارے کو امارت اسلامیہ کے نمائندہ کی حیثیت سے کسی بیرونی یا اندرونی فریق سے روابط قائم کرنے کا حق نہیں ۔

امریکا اب تک افغانستان کے متعلق ناروا سلوک کررہا ہے ۔ امریکا کے علاوہ تمام عالمی حلقوں کے سامنے ہمارے موقف کی حقانیت واضح ہوچکی ہے ۔ ان کے سامنے یہ واضح ہوچکا ہے کہ امارت اسلامیہ کو اپنے مذہب اور وطن کے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا گیا ہے اور یہ اس کا قانونی حق ہے ۔ امریکا ہمارے خلاف جو بھی جھوٹے پروپیگنڈے کرتا ہے اس کے اثرات اب صرف اس کے متعلقہ حلقوں تک محدود ہوتے ہیں ۔

ہم اپنے ملک کے دفاع کے لیے اس قانونی کا حق استعمال عسکری اور سیاسی کوششوں کی صورت میں آگے بھی جاری رکھیں گے ۔ جارحیت کا خاتمہ ، ملک میں مقتدرہ اسلامی حکومت کا قیام ، عوام کو تحفظ کی فراہمی اور خوشحالی ان کوششوں کے بنیادی مقاصد میں سے ہے ۔


ہماری یہ آرزو اللہ تعالی کی نصرت اورپھر اپنے مسلمان عوام کی قربانیوں کی بدولت پوری ہوگی ۔ ہم اللہ جل جلالہ پر توکل کرتے ہیں اور اسی سے توفیق مانگتے ہیں ۔

گذشتہ ماہ رمضان المبارک اور شوال المکرم کے مہینوں میں فلسطینی عوام کی بے مثال مزاحمت اور اس شدید معرکے میں فتح یابی تمام مسلمانوں کے لیے قابل فخر ہے ۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی انہیں ہمیشہ متحد اور کامیاب رکھے ۔ اسلامی دنیا کے معاملات میں امریکا کی باربار مداخلت امریکا کی ناکام اور غلط پالیسیوں کا تکرار ہے جس سے تمام فریقین کو نقصان ہوگا ۔

اس موقع پر میں تمام مسلمانوں سے سے امید رکھتا ہوں کہ عید اور قربانی کے ان مبارک ایام میں نادار اور بے آسرا ہم وطنوں ، مجاہدین ، مہاجرین ، شہداء اور اسیروں کے خاندانوں ، یتیموں اور بیواوں کو یاد رکھیں ۔ اور حسب استطاعت عید کی خوشیوں میں ان سے تعاون کریں ۔ ایسے مواقع پر اب تک جن اہل خیر نے لوگوں سے تعاون کیا ہے یا کررہے ہیں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اللہ سے دعا کرتاہوں اللہ انہیں اس کا بہت بہت اجر دے ۔


آخر میں عید الاضحی کی مبارکباد کے ساتھ ساتھ مجاہدین کی حالیہ جہادی کامیابیوں کی بھی مبارکباد دیتا ہوں ۔ اللہ تعالی اس عید کو افغانستان اور پوری اسلامی دنیا کی خوشحالی اور سکون کے لیے نیک شگون بنادے ۔ اور کمزور مسلمانوں کو پوری دنیا میں ظالموں کے شر سے محفوظ فرمائے ۔


والسلام


خادم اسلام امیر المومنین ملا محمد عمر مجاهد


۱۴۳۵/۱۲/۸ هــ ق


2014/10/2 م




بيان أمير المؤمنين الملا محمد عمر المجاهد بمناسبة حلول عيد الأضحی المبارك لعام 1435هـ


بسم الله الرحمن الرحيم

الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد.

الحمد لله وحده، نصر عبده، وأعزّ جنده، وهزم الأحزاب وحده، لا إله إلا الله، ولا نعبد إلا إياه، مخلصين له الدين ولو كره الكافرون، والصلاة والسلام علی من لا نبي بعده، وعلی آله وصحبه أجمعين، وبعد:

قال الله جل وعلا: }وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ{ (الأنفال:26).

إلی الشعب الأفغاني المؤمن المجاهد، إلی المجاهدین السالكین درب العزّ والحریة، إلی جمیع المسلمین في العالم، أُهنئكم جميعاً بحلول عید الأضحی المبارك وتقبّل الله طاعاتكم وتضحیاتكم في سبیل الله تعالی.

أیها الشعب المجاهد،

إن جهادكم وتضحیاتكم العظیمة ضد الاحتلال قد هزمت -بفضل الله تعالى- الأمريكيين وحلفاءهم الغربيين وعملاءهم المحلّيين، وأفشلت جميع مخططاتهم في أفغانستان، كما أن جهودهم السياسية قد باءت جميعها بالفشل الذریع، ولم یجنوا منها سوی الفضائح المخزیة، وما مجلس قمّة الحلف الأطلسي العقيم بقيادة أمريكا في (ويلز) البريطانية، وفضيحة مسرحية الانتخابات الأخيرة في أفغانستان، والانتصارات المتتالية لمجاهدي الإمارة الإسلامية في هذا البلد؛ إلا أدلة واضحة على هزيمة أمريكا وفشل سياساتها في أفغانستان.

أيها المواطنون الأعزّاء،

لعلكم أدركتم الآن جيداً، مدى فقدان الحكام الذین سلّطهم الغزاة الأمريكيون علی هذا البلد، للأهلية، ومدى إخلاصهم ووفاءهم لمصالح الأجانب، وقد شاهدتم خلال الثلاث عشرة سنة الماضية كم من الجرائم والمجازر والمظالم ارتُكِبت بيد المحتلين وعملائهم المحلّيين ضد أبناء هذا الشعب. لقد بات من الواضح، أنّ المحتلین یخسرون اعتبارهم بمرور كل یوم من عملیة الانتخات الطویلة، المتنازع فيها، والتي أُجريت في ظل الاحتلال الأمریكي. لقد شاهد العالم والمواطنون أنّ عملیة الانتخابات التي روّج لها الإعلام، لم تكن سوى محاولة جديدة لخداع الشعب الأفغاني، كما تنبّأنا بها قبل إجرائها، وأنّ التصویت باسم الشعب الأفغاني، لم یكن سوی مسرحیة معلومة النتائج مُسبقاً.

إن الأمريكيين اليوم في أفغانستان متورطون في أطول حرب في تايخ أمريكا، وما النفقات الباهظة التي قصمت ظهر أمریكا وما سقوط هیبتها في العالم؛ إلا ملامح جليّة على قرب زوال أمریكا.

إنّ حكام البیت الأبیض يبذلون قصارى جهودهم، وهم في حالة من اليأس والعجز، من أجل كسب المعركة في أفغانستان، إلا أنهم -بفضل الله- فقدوا جميع فرص الانتصار في هذه المعركة، كما أن عملاؤهم المحليين الذین یُستخدمون في الحرب ضدّ المجاهدین، قد تضاءلت روحهم القتالیة، وأصبح كيانهم عرضة للخلافات الداخلية العميقة.

أيها المجاهدون الأبطال، إنه لأجل أن تتحقق الأهداف المرجوّة من جهادنا، ونُحكِم الخِناق علی العدوّ في جميع المجالات الجهادية؛ عليكم أن تلتزموا، بجديّة، بالإرشادات الآتية:

حافظوا علی وحدة صفكم الجهادي، وحافظوا علی تأييد الشعب واحتضانه لكم بالتحلّي بحسن الخُلُق والرحمة والعطف علی الناس وتقوية الأواصر مع عامّة الشعب؛ لأنُ جميع انتصاراتنا ومكتسباتنا الجهادية، بعد نصر الله تعالی لنا، إنما هي ثمرة حماية الشعب للمجاهدين. وقد ذكّر الله تعالی نبيّه بهذه النعمة، إذ أنزل عليه قوله عز وجل: {هو الذي أيّدك بنصره وبالمؤمنين} (الأنفال:62). ويبدو واضحاً للعيان، من هذه الآية الكريمة، أنّ كسب نصرة عامّة المسلمين، يُعدّ عنصراً هاماً من عناصر الانتصار علی العدوّ؛ ولذلك ذكر الله تعالی هذه النُصرة، كإحدی النعم الخاصّة علی نبيّه صلّی الله علِه وسلّم. وإذا توفّرت وحدة الرأي، والعمل المشترك بين المجاهدين والشعب في تطبيق وتسيير الأمور الجهادية، فإنّ مؤشّر النصر سيتصاعد بإذن الله تعالی، وسيكون أثر هذه الوحدة كبيراً في هزيمة العدوّ.

وبما أنّ المحتلّين قد واجهوا الهزيمة النكراء على الصعيد العسكري في هذا البلد، فهم الآن يبذلون جهودهم الحثيثة للثأر لهزيمتهم من الشعب الأفغاني، عن طريق إشعال نار الخلافات الحزبية، والقومية، والطائفية. ولذلك يجب علی الشعب وعلی المجاهدين أن يُحبِطوا مؤآمرة العدوّ هذه، بالحفاظ علی وحدتهم، وتجنّب جميع الأعمال التي تضرّ بوحدة الشعب الأفغاني المسلم.

إنّنا نهدف من جهادنا ضدّ المعتدين الأمريكيين وحُلفائهم، إرضاء الله تعالی، وإقامة النظام الإسلامي، وإنهاء الاحتلال، والدفاع عن البلد، وتوفير الأمن للجميع بدون استثناء. فعلی المجاهدين أن يحرصوا في جميع برامجهم وخططهم على تحقيق الأهداف المذكورة بشكل عملي.

ولكي يكون النجاح حليف المجاهدين في جميع فعالياتهم الجهادية والعسكرية؛ فعليهم مواصلة الجهود والمساعي الرامية لشدّ عود صفّهم الجهادي. وليحرصوا على جعل اختراق صفوف العدوّ الأجنبيّ والمحليّ، بزرع العناصر المجاهدة فيها، ودعوة الشخصيات العسكرية رفيعة المستوی إلی ترك صفوف العدو؛ من أولويات أعمالهم. وعليهم أن يهتمّوا اهتماماً خاصاً بالمجاهدين المتسللين في صفوف العدوّ، وبأسرِهم، وأولادهم. وأن يوفّروا الأمن، والحياة الكريمة، قدر المستطاع، لمن يترك صفّ العدوّ.

إنّ الإمارة الإسلامية تبذل مساعيها لتحقيق الأهداف السالفة الذكر بتوطيد العلاقات الإيجابية بالجهات العالمية. وقد أبلغت الإمارة رسالتها للعالم، فيما يتعلق بسياساتها المستقبلية، عن طريق وسائل إعلامها، وعن طريق مكتبها السياسي. ویجدر بالذكر أنّ إقامة العلاقات، على الصعيد السياسي، بالجهات الخارجية، والداخلية، تنحصر بالمكتب السياسي للإمارة الإسلامية، ولا يحق لأيّ شخص أو جهة إقامة علاقات سياسية باسم الإمارة الإسلامية بأيّة جهة خارجية أو داخلية دون إذن قيادة الإمارة الإسلامية.

إنّ العالم كلّه – سوی الأمريكيين الذين ينتهجون تعاملاً خاطئاً تجاه قضيّتنا- يُدرك أصالة موقفنا وعدالة قضيتنا، وقد ظهر له أنّ الإمارة الإسلامية اضطرّت لحمل السلاح دفاعاً عن معتقداتها وبلدها، وأنّ هذا حقها المشروع.

إنّ حرب التشوية والإشاعات المغرضة، التي تنتهجها أمريكا ضدنا، لتحقيق أهدافها المشؤومة، لم يعُد يصدّقها الآن سوى الجهات المرتبطة بها. وإنّنا سنواصل جهودنا العسكرية والسياسية؛ من أجل الدفاع المشروع عن قضيّتنا، وإنّ إنهاء الاحتلال، وإقامة الحكومة الإسلامية القويّة، وتوفير الأمن والاستقرار، لهي من الأهداف الأساسية لهذه الجهود. وإنّنا -بنصرالله تعالی- ثمّ بتضحيّات شعبنا المسلم، سنحقّق هذه الأهداف، وفي سبيل تحقيقها نتوكل علی الله تعالی، ومنه وحده سبحانه، نستمدّ التوفيق.

إنّ المقاومة الفذّة للشعب الفلسطيني، ضدّ الهجوم الوحشيّ للقوات الصهيونية المعتدية، وانتصاره فيها، ليُعدّ مفخرة لجميع المسلمين، وأسأل الله تعالی أن يمنّ علينا وعليهم، بالوحدة والنصر دوماً.

إنّ التدخّل الأمريكي المتكرّر في العالم الإسلامي، هو تكرار للسياسات الخاطئة والفاشلة التي تنتهجها أمريكا في المنطقة، وهذه السياسات الفاشلة، لا تعود إلا بالضرر على جميع الجهات.

وختاماً، استغلّ هذه الفرصة، لأهيب بجميع المسلمين، أن لا ينسوا في أيام العيد المباركة ،الفقراء، والمساكين، والمجاهدين، والمهاجرين، وأُسر الشهداء، والأسری، والأيتام، والأرامل من مساعداتهم، وأن يتشاركوا معهم فرحة العيد بمساعدتهم قدر المستطاع. وإنّي أشكر المحسنين، وأهل الخير، الذين ساعدوا المحتاجين في مثل هذه المناسبات في الماضي، ولازالوا يواصلون مساعداتهم لهم، فأسأل الله تعالی أن يُجزل لهم مثوبتهم.

أهنّئكم مرّة أخری بحلول عيد الأضحی المبارك، وبانتصارات المجاهدين الأخيرة، وأرجو الله تعالی أن يجعل هذا العيد، عيد سعادة، ورفاهية لأفغانستان، ولجميع الأمّة الإسلامية، وأن ينجي المسلمين المستضعفين من ظلم المعتدين في العالم أجمع. آمين. والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

خادم الإسلام، أمير المؤمنين الملّا محمد عمر المجاهد.

۱۴۳۵/۱۲/۸ هــ ق

2014/10/2 م




پیام تبریکی عالیقدر امیرالمومنین ( حفظه الله ) بمناسبت فرارسیدن عید سعید قربان
بسم الله الرحمن الرحيم


الله أکبر الله أکبر، لا إله إلا الله والله أکبر، الله أکبر ولله الحمد

الحمد لله وحده، نصر عبده وأعز جنده وهزم الأحزاب وحده لا إله إلا الله ولا نعبد إلا إياه مخلصين له الدين ولو كره الكافرون, والصلوة والسلام علی من لا نبی بعده وعلی آله وصحبه أجمعين وبعد :

فقال الله جل وعلا: } وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ { الأنفال. 26

ملت مومن و مجاهد افغانستان، همه مجاهدین راه عزت و آزادی و همه برادران و خواهران مسلمان در جهان! عید سعید اضحی تان مبارک. خداوند متعال همه طاعات و قربانی های تان در راه الله سبحانه و تعالی را قبول نماید.

ملت مجاهد!

به نصرت خداوند متعال جهاد و قربانی های بی دریغ تان، امریکایی ها، ائتلاف غربی و حامیان داخلی آنان را همه به شکست مواجه ساخته است، استراتیژی آنان برای افغانستان بی نتیجه و تلاش های سیاسی شان در پهلوی ناکامی مواجه با فضیحت و رسوایی آشکار می باشد. و نشست بی نتیجهء سران ناتو در ویلز به رهبری امریکا، رسوایی اخیر به نام انتخابات در افغانستان و پیشرفت های پی در پی مجاهدین امارت اسلامی ثبوت آشکار این حقيقت است.

هموطنان گرامی!

اکنون شما هنوز هم درک کرده خواهد باشيد که امریکائی های اشغالگر چقدر افراد نا اهل و وفادار به منافع دیگران را بر شما مسلط کرده اند، و در جریان سیزده سال شما مشاهده کردید که چقدر ظلم بر مردم توسط اشغالگران و دوستان داخلی آنان صورت گرفته است.

پروسهء طولانی و جنجالی انتخابات در زیر سایهء اشغال نشان داد که به مرور هر روز اعتبار و حیثیت اشغالگران زیان بیشتر را متحمل ميشود، چنانچه ما قبلا گفته بودیم، جهانیان و هموطنان مشاهده کردند که پروسهء تبلیغاتی بنام انتخابات برای فريب دادن مردم بود و رأی افغان ها تنها شکل نمایشی داشت.

امروز امریکایی ها در افغانستان در طولانی ترین جنگ تاریخ خود گيرمانده اند، خسارات کمرشکن مالی و نظامی این جنگ، و از دست دادن حیثیت امریکا به سطح جهان از جمله مسایلی است که نشانه های زوال امریکا از آن مشاهده می گردد. زمامداران سرسام شده قصر سفيد درحالت مایوسی در تلاش برای پیروزی این جنگ خساره آور و ناکام می باشند؛ مگر همهء احتمالات پیروزی آنرا از دست داده اند. و آنعده از داخلی هایی که امریکایی ها آنها را در مقابل مجاهدین می جنگانند روحیهء خودرا باخته اند و با اختلافات عمیق داخلی مواجه هستند.

برادران مجاهد!

برای اینکه ما از مقاومت جهادی خویش منافع مطلوب بیشتر بدست بیاوریم و دشمن را در همه عرصه های جهادی تحت فشار بیشتر قرار داده باشیم، رهنمایی های ذیل را شدیدا در نظر داشته باشید:

به وحدت صف جهادی تان بسار متوجه باشید! با اخلاق نیک، ترحم و روابط نزدیک حمایت مردمی را مستحکمتر سازید، زیرا بعد از نصرت خداوند متعال همهء موفقیت های صف جهادی ما، دست آورد حمایت همین مردم است. خداوند متعال در خطاب به رسول الله صلی الله علیه وسلم می فرماید: }هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ{ الأنفال ۶۲.

ترجمه: او آن ذاتی است که تو را با نصرت خود و به وسیله مؤمنان تأیید کرد. از این آیت کریمه معلوم میشود که بدست آوردن حمایت عامهء مسلمانان برای بدست آوردن پیروزی خیلی مهم است، تا آنجا که خداوند متعال آن را به شکل یک انعام بالای پیامبر خویش صلی الله علیه وسلم مشخصا یاد آوری می کند. پس اگر مجاهدین و مردم برای پیشبرد برنامه های جهادی توافق در نظر و عمل داشته باشند، ان شاء الله حتما سطح پیروزی های جهادی بالا می رود و اثر آن بر دشمن بیشتر خواهد بود.

اینکه اشغالگران خارجی با شکست مواجه هستند، اکنون خیلی در صدد آن هستند تا با دوباره زنده ساختن اختلافات گوناگون تنظیمی، قومی، منطقوی و مذهبی در میان مردم، انتقام شکست خویش را از افغان ها بگیرند. مردم و مجاهدین بیدار ما باید تلاش کنند تا با محافظت وحدت خویش این دسیسهء دشمن را خنثی کنند، و از هر آن کاری شدیدا خودداری نمايند که به وحدت مردم مسلمان افغان لطمه وارد می کنند.

هدف از جهاد ما علیه اشغالگران امریکایی و متحدین آن، رضای خداوند متعال، حاکمیت نظام اسلامی، خاتمهء اشغال، دفاع از کشور و آرامی و رفاهیت بدون تفرقهء مردم مظلوم می باشد، لهذا مجاهدین باید همهء برنامه های جهادی خویش را چنان عیار سازند که اهداف فوق به شکل عملی متحقق و ثابت گردد.

برای موفق بودن فعالیت های جهادی و نظامی به هر آن کوشش ها و تلاش ها ادامه دهید که باعث تقویهء صف جهادی می گردد. نفوذ مجاهدین نفوذی در خط های جنگی امریکائی ها و داخلی ها و دعوت مقام های بلند پایه و منسوبین امنیتی در صف آنان را در اولویات کاری خویش قرار دهید. و در محافظت از مجاهدین نفوذی، خانواده و اولادهای آنان توجه خاص داشته باشید، و برای کسانیکه از صف دشمن خارج شده اند، در پهلوی امنیت، مطابق به استطاعت خویش امکانات زندگی با عزت را فراهم سازید.

علاوه بر تلاش های نظامی امارت اسلامی، جهت برقراری تماس های مثبت با جهت های معتمد جهانی برای رسیدن به اهداف عالی خویش سعی و تلاش کنید. ما پیغام خودرا دربارهء موقف آیندهء ما از طریق وسایل نشراتی و دفتر سیاسی خویش به جهانیان رسانیده ایم. باید بگوییم که در بخش سیاسی، گرفتن هر نوع تماس و رابطه با خارجی ها و جهت های داخلی، متعلق به دفتر سیاسی امارت اسلامی میباشد و بدون اجازهء رهبری، هیچ جهت و شخصی حق ندارد که به نمایندگی از امارت اسلامی با جهت و یا شخص سیاسی خارجی و یا داخلی تماس بگیرد.

بجز امریکائی ها، که تا کنون هم در برابر قضيه کشور ما از برخورد غير سالم استفاده ميکند. ديگر جهانيان بر اصالت و حقانیت داعيه ما پی برده اند، بر آنان آشکار گردیده است که امارت اسلامی بخاطر دفاع از معتقدات و کشور خویش مجبور به گرفتن اسلحه شده است و اکنون این حق مشروع ما است.

تبلیغات امریکایی ها که برای رسیدن به اهداف شوم خویش علیه ما انجام می دهند، اکنون تنها بر حلقات متعلق به امریکا اثر گذار خواهد بود.

ما در راه دفاع مشروع از قضیه خود به تلاش های همه جانبه یی نظامی و سیاسی خویش ادامه می دهیم، خاتمهء اشغال، برپایی یک حاکمیت مقتدر اسلامی و امنیت و آرامی مردم هدف اساسی این تلاش ها می باشد.

ما به نصرت خداوند متعال سپس به وسیله فداکاری و جان فشانی مردم مسلمان خود این مطالبات خودرا تحقق می بخشیم. ما بر خداوند متعال توکل می کنیم و از وی سبحانه و تعالی طلب گار توفیق هستیم.

مقاومت بی نظیر و پیروزی مردم فلسطین در معرکهء شدید در ماههای رمضان المبارک و شوال المکرم گذشته باعث افتخار همهء مسلمانان است، دعا می کنیم که خداوند متعال همیشه آنان را متحد و موفق داشته باشد. مداخله ء مکرر امریکا در جهان اسلام تکرار پالیسی های اشتباه و ناکام امریکا است که به ضرر همهء اطراف می انجامد.

با استفاده از این مناسبت از همهء مسلمانان امیدوار هستم که در این روزهای مبارک عید و قربانی هموطنان مسکین و ناتوان، مجاهدین، مهاجرین، خانواده های شهدا و اسیران، یتیم ها و بیوه ها را در کمک های خود به یاد داشته باشند و تا توان خویش با آنان برای گذشتاندن عید خوش همکاری کنند. اینکه در گذشته نیز خیلی از اهل خیر در این بخش همکاری کرده اند و می کنند از آنان تشکر می کنم و از خداوند متعال برای شان اجر بیکران خواهانم.

در اخیر همزمان با مبارکی عید اضحی، موفقیت های جهادی اخیر مجاهدین را نیز برایتان تبریک می گویم. خداوند متعال این عید اضحی را عید آرامی و سعادت برای افغانستان و تمام امت اسلامی بگرداند، و خداوند متعال مسلمانان مستضعف و بیچاره را در همهء جهان از شر ظالمان متجاوز نجات دهد.

والسلام.

خادم اسلام امیر المومنین ملا محمد عمر مجاهد


۱۴۳۵/۱۲/۸ هــ ق

۱۳۹۳/۷/۱۰ هـ ش

2014/10/2م



Message of Felicitation of the Esteemed Amir-ul-Momineen, Mullah Mohammad Omar Mujahid, (may Allah protect him) on the Eve of Eid-ul-Odha
In the name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate

Allah is the greatest, Allah is the greatest. There is no god but Allah. Allah is the greatest, Allah is the greatest. Praise is to Allah.

Praise be to Allah alone (Who) helped His Servant and gave victory to His army and defeated all the Confederates single-handedly. There is no god but Allah. We worship none except Him. The religion is purely for Him, though the unbelievers may dislike it. Peace and blessing be on the (Holy) Prophet (Mohammad p.b.u.h.) after whom no prophet will be advented. Peace be on his descendants and companions. Having said that, I proceed as follows:

Allah, the Almighty, says:”

“And remember when you were few and were reckoned weak in the land and were afraid that men might kidnap you but He provided a safe place for you, strengthened you with His help and provided you with good things so that you might be grateful.” (8:26)

To the believing and Mujahid nation of Afghanistan,

To all Mujahideen of the path of honor and freedom,

To all Muslims brothers and sisters in the world,

I extend you my felicitation on the occasion of the auspicious Eid and ask Allah, the Almighty to accept your worship and sacrifices in His Sight.

(My) Mujahid people!

Your Jihad and ungrudging sacrifices against the occupation have defeated the Americans, their Western allies and domestic supporters altogether with the Help of Allah (May Glory be upon Him). All their strategies have proved to be ineffective, with their diplomatic efforts facing fiasco, besides disgrace and ignominy. The NATO Summit in Wales under the leadership of America, the recent slandering in Afghanistan under the name of elections and the continuous advancements of the Mujahideen of the Islamic Emirate are proofs, speaking well for themselves.

Respected countrymen,

You would have, by now, come around to know what sort of unqualified figures, being loyal to foreigners’ interests, have been imposed on you by the Americans. You have seen in the (past) 13 years, the astronomical dimension of the atrocities that the invaders and their domestic supporters have unleashed against the people. The long-drawn and contentious process of the elections conducted under the shadow of occupation has portrayed the broad scope of credibility loss that the invaders do face with the passage of each day. As we had predicted earlier, the public of the world and the country men noticed that the process of the publicity stint under the name of elections was only aimed at misleading people. The votes of the Afghans were no more than a fanfare.

The Americans are entangled in Afghanistan in a long war of their history. The astronomical military and financial losses and the dwindling of America’s status credibility at world’s level are signs indicating her decline. The jittery-haunted rulers of the White House are trying, in a state of despondency, to win this disadvantageous war. However, they have lost all possibilities to win it. Their domestic (Afghan) supporters whom the American have arrayed to wage the fight against Mujahideen have lost their morale, being plagued by internal differences.

Mujahid brothers!

In order to take a desired benefit from the Jihadic resistance and in order to put an ever-growing pressure on the enemy in the battle grounds of Jihad, you should absorb the following instructions:

Focus on keeping unity among the Jihadic flanks; have good conduct with the common people; show them compassion and keep with them close relations. This is to boost up your support among the masses. In addition to the help of Allah, all our victories of the Jihadic formation are the product of the support of the masses. Allah, the Almighty says to the Holy Prophet:

It is) He (Who) has made you strong with His help and with the believers. “ (8:62)

It can be concluded from the above verse, that the support of the general Muslims (people) is pivotal in gaining victory, so much so that, Allah, the Almighty, has exclusively mentioned it as His favor bestowed on the Holy Prophet(peace be upon him). Therefore, if Mujahideen and the people have unity of view and action in implementation of Jihadic planning, the trajectory of Jihadic victories will surely ascend, if God willing, leaving an extensive impact on the enemy.

Since the invaders have faced defeat, therefore, they are bent on flaring up various differences among the Afghan people, based on faction, ethnicity, geography and religion. Thus, they want to take revenge on the Afghans for the defeat. Our sagacious people and Mujahideen should try to foil this conspiracy of the enemy by maintaining their unity and utterly desist from actions posing harm to the unity of the Afghan Muslim people.

The aim and objective of our jihad against the invading Americans and their allies is to obtain the pleasure of Allah, the Almighty; to establish Islamic System; to put an end to the occupation and, without any discrimination, bring about prosperity and well-being for our suffering people. Therefore, Mujahideen must work out their programs in a way that ensure realization and embodiment of the above-mentioned goals.

Continue all your efforts for overall victory during Jihadic and military activities in a way that contributes to the strengthening of the Jihadic flank. Give priority to the work of infiltration of the infiltrating Mujahideen in the military ranks of the Americans and their domestic supporters and to the allurement of their high-ranking security personnel. Pay exclusive attention to the infiltrating Mujahideen, to their families and children. Provide security to those who have left the ranks of the enemy besides maintaining possibility of an honorable life for them.

The Islamic Emirate is trying to reach its lofty goal through military activities and through inception of positive relations with world’s credible sides. It has conveyed its message to the public of the world via its media outfit and the political office. It is to be mentioned that maintenance of contact and relations with all foreign and domestic sides falls under the sphere of the political office of the Islamic Emirate of Afghanistan. (Except that) no entity and person has right to initiate contact with any foreign and domestic political side or person, while posing as representative of the Islamic Emirate.

Apart from the Americans who has still an implausible posturing regarding our country and issue, other sides at world’s level, have come around to understand the legitimacy and truth of (our) cause. It has been dawned on them that the Islamic Emirate has been compelled to take up arms for the defense of its belief and country. It is its legitimate right.

Though the Americans are still bent on continuing a maligning campaign against us for the obtainment of their evil objectives, but it only holds water among America’s-affiliated circles. We would increasingly continue our all-sided military and political efforts in the way of the legitimate defense of our cause, to put an end to the occupation and establish a powerful Islamic sovereignty. Security and well-being of the people are the fundamental aims of these efforts. We will reach these goals with the help of Allah, the Almighty, the selfless-dedication and sacrifices of our Muslim people. On our way forward, we put our trust in God, seeking His help.

The unprecedented resistance of the Palestinian people in the month of Ramadan and Shawal and the winning of the war is a matter of pride for all Muslims. I ask Allah, the Almighty, to constantly keep them united and triumphant.

The recurrent American intervention in the Islamic World is the result of the America’s wrong and failed policies which always prove harmful to all sides.

Availing myself of this opportunity, I urge all Muslims to remember the needy and miserable countrymen, Mujahideen, refugees, families of martyrs and prisoners, orphans and widows in these auspicious days of Eid and cattle slaughtering, during dispensation of aid and help them as possible as can be, to spend the Eid days in joy. Since many benefactors have offered their assistance for that purpose in the past and they still continue to do so, I thank them all and ask Allah (SwT) to bestow on them His generous blessing.

To end, I extend you my congratulations on the recent victories of Mujahideen as I do felicitate you on the occasion of the auspicious Eid. May Allah, the Almighty, make this Eid, an Eid of comfort and well-being for Afghanistan and all the Islamic Ummah, and salvage the oppressed Muslims in the world from the (tentacles of) mischief of the aggressive tyrants.

Peace be on you

Mullah Mohammad Omar Mujahid

Servant of Islam

1435/12/8

2014/10/2





دنېکمرغه لوي اختر د رارسېدو په مناسبت دعالیقدر امیرالمؤمنین دمبارکۍ پیغام


بسم الله الرحمن الرحيم

الله أکبر الله أکبر، لا إله إلا الله والله أکبر، الله أکبر ولله الحمد
الحمد لله وحده، نصر عبده وأعز جنده وهزم الأحزاب وحده لا إله إلا الله ولا نعبد إلا إياه مخلصين له الدين ولو كره الكافرون,
والصلوةوالسلامعلی من لا نبی بعده وعلیآلهوصحبه أجمعينوبعد :
فقال الله جل وعلا: } وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ
فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ { الأنفال. 26
دافغانستان مؤمن او مجاهد ملته، د عزت او آزادۍ دلارې ټولو مجاهدینو او د نړۍ ټولو مسلمانانو وروڼو او خویندو! نیکمرغه لوی اختر مو مبارك، د الله جل جلاله په لاره کې ټول طاعات او قربانۍ مو الله تعالی قبولې کړه!

مجاهد ولسه!

داشغال په وړاندې ستاسي جهاد او بیدریغه قربانیو د الله جل جلاله په نصرت امریکایان، او د هغوی غربي ایتلافیان او داخلي ملاتړي ټول له شکست سره مخ کړي دي، د افغانستان لپاره د هغوی ټولې استراتیژۍ بي اغیزې او سیاسي هلي ځلې یې د ناکامي ترڅنګ له ښکاره فضیحت او رسوايي سره مخ دي. چي د امریکا په مشرۍ په ویلز کې د ناټو بې نتیجې سرمشریزه، په افغانستان کې د ټاکنو ترنامه لاندې وروستۍ رسوايي اوداسلامي امارت دمجاهدینو مسلسل پرمختګونه يې ښکاره ثبوتونه دي.

درنو هیوادوالو!

تاسو به اوس لا ښه پوه شوي یاست چې امریکایي یرغلګرو په تاسو څومره نا اهله او دپردیو ګټو ته وفادار مسلط کړي دي، او د۱۳ کالو په اوږدو کې تاسو ولیدل چې د اشغالګرو او د دوی د داخلي ملګرو له خوا په ولس څومره ظلمونه وشول .

داشغال تر سیوري لاندې د ټاکنواوږده او جنجالي بهیر وښوده، چې دهر ې ورځې په تیریدو سره دیرغلګرو اعتبار او حیثیت ته لازیات زیان اوړي، لکه څرنګه چي موږ مخکې ويلي وو، نړیوالو او هیوادوالو ولیدل، چې د ټاکنو په نامه تبلیغ شوې پروسه هسې د ولس د تېر ایستلو لپاره وه او د افغانانو رایو یوازې نمایشي بڼه درلوده.

امریکایان نن په افغانستان كې دخپل تاریخ په ترټولواوږدې جګړې کې راګیر دي، د دې جګړې ملاماتوونکي نظامي اومالي خسارات اوپه نړۍ واله سطحه دامریکاحیثیت رالویدل هغه څه دي چې دامریکا د زوال نښې ترې ښکاریږي، د سپینې ماڼۍ سربداله چارواکي د مايوسۍ په حالت کې د دغې تاواني او نه ګټونکې جګړې د ګټلو هڅې کوي ، خو د ګټلو ټول احتمالات يي بایللي دي. او كوم داخليان چې امریکایان یې د مجاهدینو په مقابل کې جنګوي هغوئ روحیه له لاسه ور کړې او د داخلي ژورو اختلافاتو ښکار دي.

مجاهدينو وروڼو!

د دې لپاره چې مونږ له خپل جهادي مقاومت څخه نوره هم مطلوبه ګټه ترلاسه کړو او دښمن مو نورهم په ټولو جهادي ډګرونوکې تر لا ډير فشار لاندې راوستى وي باید لاندې لارښوونې په ټینګه په پام کې ولرئ:

د خپل جهادي صف وحدت ته ډیرمتوجه شئ! له ولس سره په ښو اخلاقو، ترحم او نېږدې اړیکو ولسي حمایت نور هم مضبوط کړئ، ځکه د الله تعالی تر نصرت وروسته زمونږ د جهادي صف ټولې بریاوې د همدې ولسي حمایت محصول دي. الله تعالی رسول الله صلی الله علیه وسلم ته فرمایلي: } هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ. { الأنفال ۶۲ .

ژباړه : الله تعالی هماغه ذات دی چې په خپله مرسته او دمؤمنانو په وسیله یي ستا ملاتړ وکړ. له دې آیت کریمه څخه ښکاري چې دعامومسلمانانو ملاتړ له ځان سره درلودل، دبریا ترلاسه کولو لپاره خورا مهم دي، تر دې چې الله تعالی یې خپل پیغمبر صلی الله علیه وسلم ته دخپل يو انعام په ډول ځانګړې یادونه کوي. نوکه مجاهدین او ولس نور هم د جهادي پلانونو په پرمخ بیولو کې دنظر او عمل یووالی ولري, ان شاء الله حتما به د جهادي بریاوو کچه لوړېږي، اوپرد ښمن به يي اثر ډیرزیات وي.

داچې خارجي یرغلګر له ماتې سره مخ دي، اوس ډیر په دې هڅه کې دي چې د افغان ولس ترمنځ د بېلابېلو تنظیمي، قومي، منطقوي او مذهبي اختلافاتو په راژوندي کولوسره له افغانانو څخه دخپل شکست بدله واخلي، زموږ ویښ ولس اومجاهدین باید کوښښ وکړي چې د دښمن دغه توطئه هم دخپل وحدت په ساتلو سره شنډه, او له ټولو هغو کارونو څخه په کلکه ځان وساتي كوم چې دافغان مسلمان ولس وحدت ته زیان رسوي.

له یرغلګرو امریکایانواومتحدینو سره یې زمونږ د جهاد موخه دالله تعالی رضا, داسلامي نظام حاکمیت، داشغال خاتمه, دهېواد دفاع او بې له کوم توپيره دځوریدلي ولس هوسايي او آرامي ده، له‍ذا مجاهدين باید خپل ټول جهادي پروګرامونه په داسې ډول عیارکړي چې پورتني اهداف په عملي توګه متحقق او ثابت شي.

د جهادي او نظامي فعالیتونو د بریالیتوب لپاره ټول هغه کوښښونه اوهلې ځلې جاري وساتئ کوم چې دجهادي صف د تقویې لامل ګرځي، د امریکایانو او داخلیانو په جنګي کرښوکې د نفوذي مجاهدینو د نفوذ او د هغوی له لیکو څخه د لوړ پوړو چارواکو او امنیتي منسوبینو را دعوتولو ته په خپلو اولویاتو کې ځای ورکړئ. او د نفوذي مجاهدینو اود هغوی د کورنیو او اولادونوپالنې ته ځانګړې توجه وکړئ او د دښمن له صف نه د راوتلیو کسانو لپاره دامن ترڅنګ دخپل توان سره سم د باعزته ژوند امکانات برابرکړئ.

اسلامي امارت د نظامي هلو ځلو ترڅنګ له نړیوالو معتمدو جهتونو سره د مثبتو روابطو په قائمولو سره لوړو اهدافو ته د رسیدو هلې ځلې کوي، او دخپلې راتلونکې تګلارې په اړه یې دخپلو نشراتي امکاناتو او سیاسي دفتر له لارې نړیوالوته خپل پیغام رسولی دی،باید ووایو چې په سیاسي برخه کې له ټولو بهرنیو او کورنیو لوریو سره تماس ساتل او اړیکې جوړول د افغانستان د اسلامي امارت تر سیاسي دفتر پورې تړاو لري اودمشرتابه له اجازې پرته هېڅ لوری او شخص حق نه لري چې د اسلامي امارت په استازیتوب له کوم بهرني یا کورني سیاسي لوري یا شخص سره اړیکې ونیسي.

له امریکایانو پرته چې لا هم زمونږ د هېواد اوقضیې په اړه له ناسالم چلند څخه کار اخلي، نور نړیوال زمونږ دداعیې په اصالت او حقانیت پوه شوي دي، هغوی ته دا څرګنده شوې چې اسلامي امارت له خپلو معتقداتو او هېواد څخه ددفاع لپاره وسلې اخیستلو ته اړ کړل شوی، او د ا دهغوی مشروع حق دی، امریکایان چې خپلو شومو اغراضو ته د رسېدو لپاره زمونږ پر خلاف تبلیغات کوي، هغه اوس ظاهرا یوازې په امریکا پورې تړلو حلقاتو باندې اغېز لري.

موږ به نورهم له خپلې قضیې د مشروع دفاع په لاره کې خپلې هر اړخیزې نظامي او سیاسي هلې ځلي جاري وساتو، د اشغال خاتمه اوپه هیواد کې یومقتدر اسلامي حاکمیت رامنځته کول، د ولس امنیت او آرامي د دغو هلو ځلو اساسي موخې دي .

د دې غوښتنې تحقق ته به د الله تعالی په نصرت اوبیا د خپل مسلمان ولس د فداکاریو او سرښندنو په وسیله رسیږو، په الله عز و جل به توکل کوو او له الله جل جلاله څخه به د توفیق غوښتنه کوو.

دتیررمضان المبارک اوشوال المکرم په میاشتوکې دفلسطیني ولس بي ساري مقاومت اوددې سختي معرکې ګټل دټولومسلمانانو لپاره دافتخار وړ دي ، سوال کوم چي الله تعالی دې همیشه متحداو کامیابه لري ، په اسلامي نړۍ کې دامریکا مکرره مداخله دامریکادغلطو اوناکامه پالیسیو تکرار دی چې دټولو جهتونو په زیان تمامېږي .

له دې موقع نه په استفادې سره له ټولو مسلمانانو څخه هیله کوم چې د اختر او قربانيو په دې مبارکو ورځو کې ناداره او بې وزله هېوادوال، مجاهدين، مهاجرین، دشهیدانواواسیرانوکورنۍ، يتيمان او کونډې په خپلو مرستو کې یاد وساتي، او تر وسه وسه ورسره د اختر په خوشحاله تیرولو کې مرسته وکړي،دا چي په تیر وخت کې په دې برخه کې ډېرو اهل خیرومرستي کړي دي او کوي یې له هغوئ نه مننه کوم او له الله تعالی نه ورته ډيرډېر اجرونه غواړم .

په پای کې د نیک مرغه لوی اختر له مبارکیو سره یوځای دمجاهدینودوروستیو جهادي بریاوومبارکي درته وایم، الله تعالی دې دانیکمرغه لوی اختر دافغانستان اوټول اسلامي امت دهوسايۍ او نیکمرغۍ اختر وګرځوي، او مستضعف مسلمانان دې الله تعالی په ټوله نړۍ کې د متجاوزو ظالمانو له شره وژغوري.

والسلام.
د اسلام خادم امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاهد

۱۴۳۵/۱۲/۸ هــ ق

۱۳۹۳/۷/۱۰ هـ ش

2014/10/2 م

No comments: