Thursday, October 31, 2013

Tehrik-i Taliban Pakistan Leader Hakimullah Mehsud's 'Eid al-Adha 1434 Message





بسم اللہ الرحمن الرحیم

تحریک طالبان پاکستان

امیرمحترم حکیم اللہ محسود حفظہ اللہ کا 
عید الاضحیٰ (۱۴۳۴ھ، اکتوبر ۲۰۱۳) کے موقع پر پیغام


تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے انسان کو صرف ایک اللہ کی عبادت کی بنا پراشرف المخلوقات بنایا اور اللہ کے علاوہ کسی کی پرستش اور اسکےقانون پر فیصلوں کی صورت میں اسی انسان کو چوپایوں سےبھی بدترقراردیا۔

میں تمام امت مسلمہ کو عید الاضحیٰ کے عظیم موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

امت کے قابل قدر نوجوانو!محترم بزرگو ، عفت مآب ماؤں اور بہنو!عید الاضحیٰ امت مسلمہ کو ایک عظیم تاریخ یاد دلاتی ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ہمارے لئے اسوہ اور نمونہ چھوڑا ہے،اسلام کی چودہ سو سالہ شاندار تاریخ اس پرعمل پیرا ہونے والوں کی قربانیوں کے ذکر سے بھری پڑی ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانثار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی اسلام کی خاطر بے مثال قربانی کی تاریخ کے تسلسل میں قرون اولیٰ میں حسین ابن علی ؓ،امام ابو حنیفہؒ،امام احمد بن حنبل ؒ،محمد نفس ذکیہؒ،علامہ ابن تیمیہؒ سے لیکرقرون اخریٰ میں سید احمد شہیدؒ،امام شاملؒ، شخ الہندؒ،شیخ اسامہ شہیدؒ،غازی عبدالرشید شہیدؒ امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ اورامیر بیت اللہ محسود شہیدؒ نمایاں ہیں۔
یہ اور ان جیسے ہزاروں اساطین امت اسوہ ٔابراہیمی پر عمل پیراہوتے ہوئے ہر دور میں با طل کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوئے اوراسلام اور مسلمانوں پرحملہ آور فتنوں کو پسپا ہونے پر مجبور کرتے رہے۔
آج پوری دنیا پر کفار کا غلبہ اور تسلط ہےاسلام اور شریعت کو نماز،روزے اورحج تک محدود کر دیا گیا ہے دین و شریعت اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے قانون کی عملداری کے بغیر کوئی شے نہیں رہتی،مگر اب ایسی شریعت کا تصور محال ہو چکا ہے،اسکے نفاذ کی باتوں اور اسکی خاطر مسلح جہاد و قتال کےتذکرےسےنام نہاد مذہبی علمبرداروں کو بھی سانپ سونگھ جاتا ہے۔
امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ نے آج سے بارہ سال پہلےصرف ایک مجاہد کی خاطرپوری اما رت اسلامیہ کی قربانی دیکر اس دور میں اسوہ ٔابراہیمی پر عمل پیرا ہونے کی جو عظیم مثال پیش کی تھی، الحمد للہ آج امت مسلمہ دنیا کے کونے کونے میں خلافت اسلامیہ کے قیام کیلئےجاری مجاہدین کی منظم جدوجہد کے نتیجے میں اسکے ثمرات پارہی ہے،اور بہت جلد د نیا ایک عظیم تر اسلامی خلافت کا نقشہ دیکھنے کو ہے جو کوہ قاف سے لیکر افریقہ کے صحارا تک پھیلا ہوا ہو گا۔ انشأاللہ۔
عید کے اس موقع پر میں امت مسلمہ کو خاص طور پروصیت کرتا ہوں کہ وہ اسوہ ٔابراہیمی پر حقیقی طور پر عمل پیرا ہونے کا تہیہ کر لیں جو کہ مجاہدین اسلام کی صفوں میں شامل ہوئے بغیر ناممکن ہے۔
شام ،مصر، برما اور ہندوستان میں مسلمانوں پر جاری مظالم پر اقوام عالم کی معنی خیز خاموشی افسوسناک ہے، اس صورتحال سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف یہ سب حقیقتاً ایک صف میں کھڑے ہیں،دنیا کے کسی بھی کونے میں ایک عیسائی کی موت پر آسمان سر پر اٹھانے والے ان خطوں میں لاکھوں مسلمانوں کی نہایت دردناک انداز میں شہادتوں پرزبانی جمع خرچ سے آگے نہیں نکل سکے،او آئی سی کے نام سے قائم نام نہاد اسلامی اتحاد کا کردار بھی انکے آقا اقوام متحدہ سے مختلف ہرگز نہیں ہے، امت کو پیش آنے والے شدیدترین سانحات میں یہ لوگ ہمیشہ چندقراردادیں پیش کرنے کے علاوہ آج تک کچھ بھی نہ کر سکے،دراصل اس اتحاد میں شامل نام نہاد مسلم رہنما انہی کفار کے ایجنٹ اور انکے پروگراموں کو عملی جامہ پہنانے کے حقیقی کردار ہیں۔
کفار و مرتدین کے مظالم کا پامردی سے مقابلہ کرنے والےمجاہدین اسلام کونہایت تاکید و اصرار کے ساتھ مسلسل امن اور رواداری کی تعلیم دینے والے نام نہاد مذہبی رہنمایان اور اسکالران اندوہناک سانحات کا کیا پر امن حل پیش کریں گے؟اے نوجوانان امت!خوب یاد رکھو!ان مظلومین کی فریاد کا جواب جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ کوئی دوسری بات ہرگزنہیں ہو سکتی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ۔۔۔
ترجمہ:اورتمہیں کیاہوگیاہےکہ تم اللہ کےراستےمیں کمزورمردوں،عورتوں اوربچوں کی خاطر نہیں لڑتے۔

پاکستان جسکی بنیاد لا الٰہ الاّ اللہ پر رکھی گئی تھی اور جس کے قیام کیلئے سترہ لاکھ مسلمانوں نے جانوں اور عزتوں کی قربانیاں دیں، اپنے قیام کے وقت سے ہی لا الٰہ الاّ اللہ کے نظام کیلئے بے چین وپریشان ہے،اس میں رہنے والے سادہ لوح مسلمانوں کو اسلامی جمہوریت کے نام پر محض نماز،روزے وغیرہ کی آزادی دیکراس ملک کے اسلامی ہونے کا شرمناک دھوکہ دیا جاتا رہا،اس فاسد نظام کے تحت ہمیشہ ملک کے جاگیردار اور سرمایہ دار طبقے نے غریب عوام کا فکری اور معاشی استحصال کیا،آج جہاں ایک طرف اسلام کے نام پر حاصل کردہ اس ملک میں فحاشی، عریانی اور لادینیت اپنی آخری حدوں کو پہنچ چکی ہےتو وہیں دوسری طرف ملک کے غریب عوام ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں،کثیر زرمبادلہ رکھنے والا ملک انکی مسلسل لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے اداروں کے ہاتھوں گروی بن چکا ہے۔
افسوس تو ملک کے دانشوروں،علما کرام اوراس سنجیدہ طبقے پر ہے جو اس پوری تباہی کا مسلسل مشاہدہ کرنےکے بعد بھی اس ساری خرابی کا حل اسی فاسد نظام میں ہی تلاش کرنے پر مصر ہیں۔ ۔

؎ بیمار ہوئے تھےجس کے سبب اسی عطار کے فرزند سے دوا لیتے ہیں

گرامی قدر بزرگو! اور امت کے قابل فخر نوجوانو!یاد رکھو دین ودنیا کی اسقدر بڑی تباہی کا خاتمہ اسوہ ٔابراہیمی پر عمل کیے بغیر ناممکن ہے۔

امام برحق غازی عبدالرشید شہیدؒ اور لال مسجد کے سینکڑوں شہدا نے اپنے پاکیزہ لہو کی قربانی دے کر اس سنت کو زندہ کیا توآپ نے دیکھا کہ نفاذ شریعت کی تحریک کی بنیادیں پاکستان میں مستحکم ہو گئیں،تحریک طالبان کے ہزاروں مجاہدین وانصار نے قبائل سےلیکر پاکستان کے ہر کونے میں مسلسل قربانی کے ذریعے اس عظیم تحریک کو الحمدللہ اس نہج پر پہنچا دیا ہےکہ اب پاکستان کا حکمران طبقہ اس تحریک کو اپنے لئے واضح خطرہ سمجھ چکا ہےان کو اپنی ناؤ صاف ڈوبتی نظر آ رہی ہے۔

ملک کے طول و عرض میں طالبان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف ہو کرانہوں نے مجاہدین اسلام سے مسلمان عوام کوبدظن کرنے کیلئے کئی قسم کے شیطانی ہتھکنڈے اختیار کرنا شروع کردیے ہیں:
۔۱۔ عام مقامات پر حملے:عوامی مقامات اورمسلمانوں کے بازاروں میں خفیہ ایجنسیوں ،شیعہ اور دیگر اسلام دشمن گروہوں کے ذریعےبم دھماکے کرواکر اسکا الزام تحریک طالبان پر ڈالتے ہیں،قصہ خوانی بازار پشاور، کوئٹہ لیاقت بازار، لاہور انار کلی دھماکے اسکی تازہ ترین مثالیں ہیں،ہم ایسے تمام حملوں سے مکمل طور پر اظہار برا ت کرتے ہیں۔
۔۲۔بھتہ وصولی:پشاور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں تحریک طالبان کے نام پر مالدار مسلمانوں سے دھمکی دیکر پیسے وصول کئےجا رہے ہیں،حکومت اس مکروہ دھندے میں بھی اپنے انہی ایجنٹوں کو استعمال کر رہی ہے جو مسلمانوں کےبازاروں میں دھماکے کر رہے ہیں،اس طرح کے کئی کیس میڈیا کے ذریعے بے نقاب ہو چکے ہیں۔

ہم مسلمان کے مال کی حرمت اسکی جان کی طرح سمجھتے ہیں لہٰذا ایسےواقعات سے بھی اظہار برات کرتے ہیں اور مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسے معاملات میں ہم سے بلا خوف و خطر براہ راست رابطہ کر کے تحریک طالبان کی دار القضأ میں اپنا مقدمہ پیش کر سکتے ہیں اوران سے گزارش کرتے ہیں کہ ایسے عناصر کی نشاندہی میں ہماری مدد کریں تاکہ انکی مکمل بیخ کنی کی جا سکے۔

۔۳۔جھوٹا میڈیا پروپیگنڈہ:سادہ لوح عوام کے ذہنوں میں میڈیا کے ذریعے مجاہدین اسلام کی نہایت غلط تصویر پیش کی جا رہی ہے ،اپنے زرخرید ایجنٹوں کے ذریعے تحریک طالبان کے خلاف مسلسل اتنا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہےکہ جس سے پاکستان کے سادہ لوح عوام اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی خاطر اٹھنے والی اس تحریک کو ہی اسلام دشمن اور مسلمانوں کی قاتل جماعت سمجھ بیٹھے۔

علاوہ ازیں بعض نام نہاد مذہبی جماعتیں اور ادارے باقاعدہ فکری اور نظریاتی طور پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی مذموم کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اس مقصد کیلئے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی بے بنیاد تشریحات اور انکےنہایت اوکھے مصداقات بیان کیے جا رہے ہیں، مجاہدین اسلام اپنے موثردعوتی پروگرام اور محدود میڈیا کے ذریعے اس پروپیگنڈے کابھر پور جواب دے رہے ہیں،اگر مجاہدین ثابت قدم رہے اور اخلاص و تقویٰ کا دامن نہ چھوڑیں تو انشأاللہ اس محاذ پر بھی دشمن جلد شکست کھا جائیگا۔

عسکری میدان میں شکست کے بعد جب ایسےتمام شیطانی ہتھکنڈے بھی بیکار ثابت ہوئےتو اب حکومت نے مجبور ہو کر طالبان سے مذاکرات اور معاہدوں کی بات شروع کردی ہے۔
اس حوالےسےتحریک طالبان کامؤقف نہایت واضح ہے۔

۔۱۔ہم سنجیدہ اور با مقصد مذاکرات پر ہمیشہ یقین رکھتےہیں۔

۔۲۔اس حوالے سے حکومت کو امریکہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ سے مکمل آزاد ہو کرمذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہو گا۔

۔۳۔مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر میڈیامیں طالبان کے خلاف مختلف حیلوں اور بہانوں کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈا ہرگز منظورنہیں کریں گے۔

۔۴۔مذاکرات کیلئے ملک اور قوم کے سنجیدہ اور قابل اعتماد اشخاص میں سے جسکو بھی آگے بڑھایا جائے انکا قدر و احترام کریں گے۔

۔۵۔ماضی میں کئے گئے معاہدوں میں حکومت اور فوج نے سنگین خلاف ورزیاں اور خیانتیں کیں جسکا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے، اب کی بار ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو یقیناً اسکا نقصان نا قابل تلافی ہو گا۔

۔۶۔جنگ بندی کیلئے ہر وقت تیار ہیں بشرطیکہ ڈرون حملے بھی رک جائیں،اسلیےکہ یہ حملے آئی ایس آٓئی اور فوج کی مکمل مرضی اور انکی بھرپور نشاندہی سے ہو رہے ہیں، ممکن ہے کہ فوج اورآئی ایس آئی سیاستدانوں کو گمراہ کر رہے ہوں کہ یہ ہمارے اختیار میں نہیں۔

۔۷۔شرائط اور مطالبات کی باتیں قبل ازوقت ہیں ،مذاکرات کی میز پر بیٹھنےسے قبل حکومت کی کوئی شرط مانتے ہیں اور نہ خود کوئی شرط عائد کرتے ہیں۔
پاکستان کے مسلمان اور عوام اس ملک پر شریعت کی بالا دستی دیکھنا چاہتے ہیں، شریعت کی بالا دستی میں قوم اور ملک کی سلامتی اور خوشحالی پنہاں ہے،مسلمان ہوں یا غیرمسلم ان کا تحفظ اور انکے حقوق کا حصول شریعت کے بغیر ناممکن ہے۔
تحریک طالبان اس دھرتی پر قیام خلافت اور نفاذ شریعت کی ضامن تحریک ہے۔

میں امت مسلمہ کے ہر خاص و عام فرد سے اپیل کرتاہوں کہ وہ اس مقدس قافلے میں شریک ہوکر اپنی صلاحیت اور توانائی اسلام کی آبیاری کیلئےصرف کریں۔۔۔

والسلام اخوکم
 حکیم اللہ محسود (حفظہ اللہ)
(مرکزی امیر تحریک طالبان پاکستان) 
عید الاضحی ۱۴۳۴ھ، اکتوبر ۲۰۱۳






المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلانا  

Friday, October 25, 2013

New Article in the October 2013 CTC Sentinel: "The Nairobi Attack and Al-Shabab's Media Strategy"


I have a new article in this month's issue of the CTC Sentinel, published by the Combating Terrorism Center at West Point.  The article, "The Nairobi Attack and Al-Shabab's Media Strategy," focuses on analyzing the insurgents' media operations strategy during and after the Westgate attack/siege.  After a brief overview of the attack and its timeline, the article proceeds with an analysis of Al-Shabab's media strategy and its evolution in historical context.  Continuities and shifts in its media operations receive particular attention, as does the importance to Al-Shabab of its key Kenyan ally, the Muslim Youth Center (recently re-branded reportedly as "Al-Hijra" or "The Emigration").

I look at both "traditional" forms of media operations artifacts such as radio/audio interviews, written press statements and communiqués, and insurgent produced and/or released photographs and videos as well as newer forms of media messaging, such as micro-blogging on Twitter via Al-Shabab's official Twitter accounts in English, Somali, and Arabic.

The introduction:

"After carrying out a bold attack inside the upscale Westgate Mall in Nairobi in September 2013, the Somali militant group al-Shabab succeeded in recapturing the media spotlight. This was in large part due to the nature of the attack, its duration, the difficulty in resecuring the mall, the number of casualties, and al-Shabab’s aggressive media campaign during and immediately after the attack.

From al-Shabab’s perspective, the attack on Westgate Mall was a media triumph, particularly coming in the midst of a growing rift among jihadists both inside and outside Somalia regarding the consolidation of power by the group’s amir, Ahmed “Mukhtar Abu al-Zubayr” Godane. The attack also followed a year in which al-Shabab lost control of significant amounts of territory in Somalia, most importantly major urban and economic centers such as the cities of Baidoa and Kismayo.

This article examines al-Shabab’s media strategy during and immediately after the Westgate Mall attack, both via micro-blogging on Twitter through its various accounts as well as more traditional media formats such as audio statements from the group’s leadership. The article also puts the group’s media operations for the Westgate attack in historical context by comparing and contrasting them to al-Shabab’s past media campaigns. Finally, the article concludes with an assessment of al-Shabab’s current state of health and the potential for more spectacular acts of violence, in large part as political and media spectacles designed to capture public attention. It finds that al-Shabab, despite facing increased political and military setbacks, remains adept at executing audacious attacks designed to attract the maximum amount of media attention. Its media operatives are still able to skillfully exploit its enemies’ mistakes on the battlefield and in the information operations war, as well as manipulating the news cycle by inserting sensationalist claims. It also finds that al-Shabab has maintained a great deal of continuity with its messaging toward foreign state actors active in Somalia, despite the insurgents’ shifting fortunes on the ground."

Read the rest at the CTC Sentinel's web site.

Saturday, October 19, 2013

My Podcast Discussion on The Loopcast about Al-Shabab's Media Operations Pre and Post Westgate, Foreign Fighters, & Recruitment


Yesterday I discussed the evolution of Al-Shabab's media operations, its media strategy during and immediately after the Westgate Mall attack in Nairobi, Kenya, and the group's recruitment strategies and practices on The Loopcast podcast with host Sina Kashefipour.  

The podcast runs about one hour and forty minutes and is playable on the web site or as an mp3 download at The Loopcast's web site.




 

Sunday, October 13, 2013

Mullah Muhammad 'Umar's 'Eid al-Adha 2013 Message (English, Arabic, Persian, Urdu, & Pashto)



Message of Felicitation of the Esteemed Amir-ul-Momineen (may Allah protect him) on the Occasion of Eid-ul-Odha
Created on Sunday, 13 October 2013 19:20



In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate.

Praise be to Allah, The Sustainer of the Worlds. Blessing and peace be on Mohammad, the Messenger of Allah, on his descendents, companions and those who like them and follow his guidance until the Day of Judgment. 

Having said that, I would like to proceed:

I seek refuge in Allah from Satan, the Rejected One.
In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate.
“They seek to extinguish the light of Allah with their mouths, but Allah will complete His light, much as the disbelievers may dislike it.” (61:8) the Holy Quran.
Allah is the greatest, Allah is the greatest. There is no God except Allah. Allah is the greatest and Allah is the greatest. Praise be to Allah (swt).

(My) Believing Countrymen and all the Islamic Ummah!
Peace be on you and the Mercy of Allah and His blessing.
Before proceeding further, I would like to extend my (heart-felt) felicitation to you all on these auspicious days of the Eid-ul-odha. May Allah (SwT) accept in His Sight, the worships of all, in particular, the pilgrimage of the revered pilgrims, the sacrifices of the Mujahideen, the martyrdom of the martyrs, (the sufferings in) detention of the detainees and of the injured. I pray to Allah to give patience and reward to the families of the martyrs and, through His blessing, pave the way for release of the detainees and bestow fast recovery on the injured. May Allah favors (us) all with an Islamic system, prosperity and tranquility. 

(My) Muslim Brothers:
We are celebrating these days of festivity of Eid-ul-Odha in a time that, at world’s level, the Islamic Ummah as well as our country are facing many problems. On the one hand, the invasions, machinations and brutal activities of the enemies are continuing against the Ummah, on the other hand, the diseases of internal frictions, aversions, dispersion, betrayal and entanglement in the cobwebs of the enemies have reached the very fabric of the body of the Ummah. 

The auspicious and magnificent congregation of Hajj (pilgrimage) teaches (us) to throw away (the impression from) the misinformation of the enemies, any diabolical perceptions, baseless skepticism, tribal, lingual, geographical, ethnical, religious and other prejudices from our mind. Similarly, part ways with selfishness, pessimism and dissensions; show sympathy with each other under the very blessed motto of Islam and, by this way; solve all adversities and problems of the Ummah.   Let’s hold fast to Islam and seek the path of a real rescue on the basis of the instructions of Islam. 

(My) Valiant and Devoted Mujahideen of the Path of Truth.
The might of the enemy has begun melting as a result of the help of Allah (SwT), your selfless sacrifices and the strong support of the people. If God willing, the moments of victory is coming ever near with the passage of each day. Celebrate these moments by rendering thanks to Allah (swt) and service to your people. Thus we’ll become eligible for more Divine blessing. My advice to all Mujahideen is to stand up to the enemy firmer than before; deal them a crashing blow and woo people to your side on an unprecedented manner, so that,   we will attain the lofty goal of liberation of the country and an all Afghans –inclusive Islamic system, consisting of qualified individuals—a system for which we have been waging the holy Jihad for years on. 

Believing Afghans.
On the eve of Eid-ul-Odha of this year, I would like to share with you afew points about the current adversities in the country as follows. The invaders illegitimately shed blood of tens of thousands of Afghans during the past twelve years; put tens of thousands of them behind the bar and bombed cities, religious seminaries and mosques. They frequently perpetrated blasphemy against the sacrosanct of the Muslims, particularly, desecrated the Holy Quran. Moreover, they plundered vital mines of our country; slapped an incompetent and powerless administration on our people with its high-ranking rulers being regularly involved in corruption, embezzlement, land-grabbing, narcotics trafficking and production, rummage sale of forests, mines and historical relics. 

These crimes are part and parcel of a precisely worked-out program of the invaders, by which, they want to pave the way for continuous presence and tangle the Afghans in a state of dearth and need. As to the field of culture, media and rearing,   they have also launched programs aimed at causing a spiritual collapse and notion aberrations of the people. Certain media outlets, with funding from   the invaders,   are focusing to impose the   non-veil and all mingling culture of the West on the Afghan people under the name of rights for women and youth and would like to alienate them from their Islamic principles and national culture;   to flare up tribal, geographical and lingual animosity among the people and erode their mutual unity. This is being done to make their presence here permanent and facile as well as the occupation. 

The Kabul Administration and the invaders are not only bent on playing havoc with Afghanistan domestically,   but are marginalizing the country at regional and global level by signing colonial agreements and thus procure reasons for continuation of the war. Therefore, the invaders and their allies should understand that the strategic agreement will accompany grave consequences for them. Though they may get these documents rubberstamped by a fake Loya Jirga but it will not be acceptable to the Afghans. Throughout the history, the real representatives and Loya Jirgas of the country have never signed documents of slavery. So those who would sign this (document), could not be called a representative Loya Jirga of the country. Their decisions are not acceptable. The invaders should know that their limited bases will never be accepted. The current armed Jihad will continue against them with more momentum. 

In order to fulfill our religious, national and humane responsibility, and ensure the survival of Afghanistan; maintain security of the region and the world; in order to obtain independence , honor and political liberty for the people; in order to catapult the people from this dangerous conditions , ( it is necessary that) the Afghans join hands with each other and make concerted efforts to put an end to the invasion, to all adversities, aversions and the shameful situation and pave way for establishment of an independent Afghan Islamic system .

The Afghan people could not be enticed by the ( current)   conspiracy of misleading people under the name of elections in the shade of the occupation in the country because, those figures are active in these elections who are catering only to personal interests and the interests of the invaders rather than the Islamic and national interests. Even some of them are trying to distort the very principles of the sacred religion of Islam in order to reach the corridor of power and to please the non-believers. 

The people know that some foreign stooges are playing with their destiny. The votes of the people have no value in the elections nor will participation benefit. Therefore, the Islamic Emirate rejects these elections and urge the people to avoid participation in them because this is only a drama being played by the invaders to attain their goals. 

As a principle, the Americans and their allies do not believe in elections. They commit themselves to the results of elections when their interests are ensured, but when   they are not, then they do deprive (human) societies of their elected governments. There are many examples on hand. However, the fresh and living example is that of the Egyptian elections. Every one saw what they did with the elected government. Thousands of Egyptian Muslims who were seeking to get their legitimate rights through peaceful ways were martyred, injured or detained. This process has been continuing while the advocates of democracy are watching! 

Honor-loving Afghans!
Recently, the invaders and their allies have been making efforts to show that defense of the sovereignty of the Islamic country-- the Jihad and resistance against the invaders -- is an illegitimate act. This is to distract the attention of the world and (our) people from the occupation of the land of the Afghans and label the struggle against the occupation as a domestic war. Thus they are trying to hide the broad day light with their fingers. The Kabul Administration wants to put forward futile justifications for the direct military and multi-faceted invasion of 49 countries by convening phony conferences attended by some hangers-on figures. But the incumbents of these conferences must understand that, if God willing, the moments of victory of the Afghan people-- i.e. the defeat of the invaders and establishment of an independent Islamic system-- has reached with the help of Allah (Swat). That is why their futile and vain efforts will be of no avail. 

Praise be to Allah, the Afghan Mujahid people are now aware of the realities. They will not fall prey to your machinations. Therefore, we call on all those who support the invaders or have joined their ranks but not deliberately, to disband their support like thousands of your fellows have done so far. The vast embrace of the Islamic Emirate is always open to you. Is it not rationale to side with your people where your death and life will become a symbol of pride for all, instead of losing your life in the ranks of the non-believers where you will relinquish your faith and the worldly life?

We call on our Mujahideen to use the good office of the religious scholars, tribal elders and notables to exhort soldiers of the military and police and the Arabakis to join the ranks of the people by abandoning the ranks of the invaders and participate in the historical honor of attaining independence of the country and establishing an Islamic system. 

Believing Countrymen!                                        
The Islamic Emirate of Afghanistan assures all Afghans that it strives for independence of the country and an all Afghans-inclusive Islamic system with a sovereign feature which will, as a fundamentals of its policy, cater to the prosperity of the people, the development and social justice and would dispense (government) posts to qualified people on merits; which will, meticulously, ensure rights of all people and maintain good relations with all countries of the region and the world, particularly, the neighbors in the light of mutual respect, Islamic principles and national interests; which will pay special attention to the infrastructure of the country, particularly, economy, industry and business. In short, a system which will work for spiritual and material uplift of the people and the country. 

We have mandated the Political Office of the Islamic Emirate to maintain contacts with the world. If someone wherever, tend to open an office under the name of the Islamic Emirate, they will not represent the Islamic Emirate. Contact with none-representative individuals is a waste of time and would not benefit. Similarly, if someone rather than the official spokesmen of the Islamic Emirate and the responsible individuals of the Political Office, try to utter remarks about the policy of the Islamic Emirate or someone rather than the Political Office make contacts with the Opposition or any one expresses support for the elections under the name of the Islamic Emirate, they are not our representatives nor they have contact with us. These individuals turn to such acts only for self-reputation and material gains. 

To end, I extend my heart-felt felicitation to all country men and the Islamic Ummah on the occasion of Eid-ul-Odha. I urge the wealthy brothers, not to forget (your) miserable and poor brothers, families of the martyrs and the detainees and the needy country men in your assistance and kind acts in this festivity and sacrifice of the Eid. Extend them a hand of cooperation as much as possible. 

Mujahideen brothers should strengthen bond of nearness, good relations, kindness, love and service with their compassionate, honor-loving, Islam- loving and patriotic people. Strictly abide by the rules given to you.
                                         Peace be on you all.

Mullah Mohammad Omar Mujahid
Servant of Islam
Amir-ul-Momineen
۱۴۳۴/۱۲/۸ هـ ق
۲۰۱۳/۱۰/۱۳

ARABIC:

بيان أمير المؤمنين الملامحمد عمر المجاهد بمناسبة عيد الأضحی المبارک لعام ۱۴۳۴هـ

بيان أمير المؤمنين  الملامحمد عمر المجاهد بمناسبة عيد الأضحی المبارک لعام ۱۴۳۴هـ

بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدلله رب العلمین والصلوة والسلام علی رسوله محمد وعلی آله وأصحابه ومن والاه ومن اتبع هداه إلی یوم الدین.
أما بعد:
فأعوذ بالله من الشيطان الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم (يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ) [سورة الصف ].صدق الله العظيم. الله أکبر  الله أکبر لا إله إلا الله والله أکبر الله أکبر ولله الحمد.

إلی الشعب الأفغاني المسلم والأمة الإسلامية جمعاء!
                                                السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته !
قبل کل شیئ أهنئکم جميعاً بحلول عید الأضحی المبارک، وأسأل الله تعالی أن يتقبل من الجمیع عباداتهم، وبخاصة من الحجاج حجهم، ومن المجاهدين تضحیاتهم وفدائيتهم، ومن الشهداء استشهادهم، ومن الأسری والجرحی أسرهم ومشقاتهم، کما أسأله تعالی أن يمن علی أسر الشهداء بالصبر والأجر، وأن يمن علی الأسری بالخلاص من الأسر، وأن يتفضل علی الجرحی بالشفاء العاجل، وأن يتکرم علی الجميع بالأمن والرفاه و نعمة النظام الإسلامي.
أیها الإخوة  المسلمون!
إننا نحتفل بأیام العید المبارک في الوقت الذي تواجه فيه أفغانستان والأمّة الإسلامیة في العالم المصائب والمشاکل، فمِن جانب لازالت هناک هجمات الأعداء ضدّ الأمّة الإسلامیة ومؤامراتهم وأعمالهم الغاشمة في استمرار، ومن جانب آخر تعاني الأمّة من أدواء التفرّق والعداء، والغدر، والانزلاق في مصائد الأعداء.
إنّ تجمّع المسلمین العظیم في الحج یعلّمنا درس التخلص من الانسیاق وراء إشاعات العدو وأفکاره الشیطانیة، کما یعلمنّا أن نتخلّص من إساءة الظنون، ومن العصبيات القومیة، واللسانیة، والإقلیمیة، والعرقیة، والمذهبیة. وأن نُخرج عن أذهاننا أفکار الأنانیة، والأحقاد، والفُرقة.وكذلك یعلّمنا تجمّع الحج التآخي،والتضامن تحت شعارالإسلام وحده فقط،وأن نقضي علی مشاکل الأمة ومآسیها بهذا الطریق. فتعالوا لنتمّسک بالإسلام، وأن نبحث عن طریق النجاة الحقیقیي في ضوء تعالیمه فقط .
أیهاالمجاهدون الأبطال!
 إنکم بنصرالله تعالی، ثم بتضحیاتکم وفدائیتکم العظیمة، وبمناصرة شعبکم المسلم قد هزمتم العدو، وقضیتم علی قوته. ومع مرور کل یوم نقترب بإذن الله تعالی من الفتح العظیم. فعلیکم أن تحتفلوا بالفتح العظیم بالشکر لله تعالی، وبالخدمة لشعبکم، لکی نستحق مزیداً من العنایات الإلهیة.
ووصیتي لکم أيها المجاهدون جمیعاً هي أن تشدّدوا من صمودکم أمام العدوّ، وأن توجهوا  إلیه مزیداً من الضربات المدّمرة، وأن تزیدوا من تضامنکم مع شعبکم المجاهد لکی تصلوا إلی الهدف الغالی الذي یتمثل في تحریر البلد وإقامة النظام الإسلامي الحرّ المتکوّن من الأشخاص الصالحین، والذي سیشمل الشعب الأفغاني کله، وهو الهدف الذي نجاهد في سبیل الوصول إلیه منذ سنوات.
أیها الشعب الأفغاني المسلم!
إنني أودّ أن أستغل هذه المناسبة لأعرض علیکم بعض النقاط حول مأساتنا الحاضرة وهي کالتالي:
إنّ الغزاة المحتلین أراقوا خلال اثنتي عشرة سنة الماضیة دماء عشرات الآلاف من أبناء الشعب الأفغاني المسلم من دون حق، وزجوا بعشرات الآلاف منهم في غیاهب السجون، وقصفوا القری، والمدن، والمساجد، والمدارس، وأهانوا إلی مقدسات المسلمین وبخاصة إلی القرآن الکریم بالمرّات تلو المرّات، وقاموا بنهب ثرواتنا من مناجم بلدنا، وسلّطوا علی هذا الشعب إدارة عمیلة فاسدة مکونة من المسؤولين الغارقين في الفساد، والمتورطين بشکل منظم في سرقة الثروات الطبیعیة من الغابات والمناجم.
إنّ هذه الجرائم هي جزء من الخطة التدمیریة للمحتلّین في هذا البلد.إنّهم یریدون أن یهیّئوا الأرضیة لبقائهم الطویل الأمد في هذا البلد، وهم بهذه السياسة یریدون أن یجعلوا الشعب الأفغاني في فقر واحتیاج دائمين. وقد وضع المحتّلون خططاً وبرامج تدمیریة في مجالات الثقافة والإعلام والتربیة أیضاً، لیدفعواعن طریقها بالشعب الأفغاني إلی هاویة الضلال والسقوط المعنوي.
إنّ المؤسسات الثقافیة والإعلامیة التي تُموَّل من قِبَل المحتلين قد رکزت جمیع جهودها في سبیل فرض ثقافة العُري والاختلاط علی الشعب الأفغاني تحت عنوان العمل لحقوق النسوان والشباب بقصد قطع صلتهم بالأصول والضوابط الإسلامیة وقیم هذا الشعب المسلم، ویسعی العدوّ عن طریق هذه الإدارات والمؤسسات الثقافیة والإعلامیة إلی زرع بذور الاختلافات والأحقاد القومیة، والإقلیمیة، واللسانیة بقصد القضاء علی وحدة هذا الشعب المسلم لیُسهّل به استمرار احتلاله وفرض سیطرته علی هذا البلد.
إنّ إدارة کابل العمیلة والمحتلّین لم يشمّروا عن سواعدهم لتدمیر هذا البلد من الداخل فقط، بل یسعون عن طریق عقد المواثیق الإستعماریة إلی تنحیة أفغانستان إقلیمیاً وعالمیاً أیضاً، ویوفّرون بهذه المواثیق الاحتلالیة أسباب استمرار الحرب في هذا البلد، فلیعلم المحتلّون ورفاقهم أن عقد الاتفاقیات الاستراتیجیة سیحمل لهم عواقب سیّئة مهما وضعوا علیها أختام القرارات الشعبیة عن طریق المجالس الشعبیة المزوّرة التي تُدعی بـ (لویاجرغا).إنّ الشعب الأفغاني لن یقبل بمثل هذه القرارات، لأنّ الذین یوقّعون علیها لا یمثّلون الشعب، والممثلون الحقیقیون لهذا الشعب في إجتماعاته الشعبیة لم يصادقوا علی مرّ العصور علی القرارات التي تحمل لهم الذل والإستعباد.فالذین یوقعون الآن على مثل هذه القرارات هم لا یمثلون الاجماع الشعبي لهذا الشعب، وقراراتهم مرفوضة قطعاً.
ولکي نکون قد أدیّنا مسؤولتنا الدینیة، والشعبیة، والإنسانیة، ونکون قد ضمنّا بقاء أفغانستان والأ من في المنطقة والعالم، وحقّقنا الحرّیة والرفعة لشعبنا، ونكون قد حصلنا علی الاستقلال وحقّقنا الخلاص لشعبنا من هذه المأساة یجب علی جمیع الأفغان أن یکونوا یداً واحدة، وأنّ یقوموا بجهود مشترکة لإنهاء الاحتلال والخروج من هذا الوضع المأساوي، وأن یعملوا لإقامة نظام إسلامي أفغاني حرّ.
إن المؤآمرة الخادعة للانتخابات المزمع إجراؤها تحت رعایة الإحتلال بقصد خداع الشعب الأفغاني لن ینخدع بها الشعب الأفغاني، لأن الوجوه الدخیلة فیها هي الشخصیات التي تقدّم المصالح الشخصیة ومصالح المحتّلین علی المصالح الإسلامیة ومصالح هذا الشعب، وحتی أنّ  بعض هؤلاء یسعون لتحریف الأحکام الإسلامیة بقصد إرضاء المحتلّین والوصول إلی السلطة.
إن الشعب الأفغاني یدرک أنّ طغمة من الخونة والعملاء یلعبون بمصیره، وأنّه لاقیمة لرأیه، ولا تُتوقع أیة فائدة من المشارکة في هذه الانتخابات. ولذلک ترفض الإمارة الإسلامیة هذه الانتخابات، وتطلب من الشعب عدم المشارکة فیها، لأنها ليست سوی مسرحیة یقوم بإجرائها العدوّ لتحقیق أهدافه في هذا البلد.
إنّ أمریکا ورفاقها في الحقیقة لایؤمنون بالانتخابات إلا إذا کانت تحقق لهم أهدافهم ومصالحهم، وأمّا إذا کانت الانتخابات لاتُحقّق لهم أهدافهم ومصالحهم، فیقومون عن طریق المؤآمرات بحرمان الشعوب من الحکومات الشعبیة. وهناک أمثلة کثیرة لهذه المؤآمرات، ومن أمثلتها الحیة القریبة هي انتخابات مصر التي رأی فیها العالم ماذا فعلوا فیها مع الحکومة المنتخبة؟ إنهم قتلوا بکل قسوة آلاف المصریین الذین کانوا یطالبون بحقوقهم عن الطرق السلمیة، وجرحوا الآلاف، وزجّوا بالآلاف الآخرین في غیاهب السجون، ولازال هذا المسلسل مستمرّاً، والحکومات التي تحمل رایة الدیموقراطیة تکتفي بالمشاهدة فقط.
أیهاالشعب الأفغاني الغیّور!
إنّ المحتلّین ورفاقهم في هذا البلد قد بدأوا الآن جهوداً بقصد إظهار جهاد هذا الشعب للدفاع عن بلده الإسلامي ومقاومته للمحتلّین في ثوب عمل غیر شرعي، لیصرفوا أنظار الناس عن احتلالهم لهذا البلد. إنّهم یسعون الآن لتسمیة مقاومة الشعب الأفغاني للمحتلّین بالحرب الأهلیة. إنهم یسعون لإخفاء الشمس بالأصابع.
إنّ الإدارة العمیلة في (کابل) تسعی بواسطة بعض الوجوه العمیلة عن طریق عقد المؤتمرات التمثیلیة أن ینحتوا أدلّة وتوجیهات فاسدة لإضفاء الشرعیة علی الاحتلال العسکري السافر لـ 49 دولة علی أفغانستان، ولکن لیعلم القائمون بعقد مثل هذه المؤتمرات أن لحظات انتصار الشعب الأفغاني قد اقتربت بفضل الله تعالی، وأنناعلی مشارف هزیمة العدوّ وإقامة النظام الإسلامي إن شاء الله تعالی، ولذلک لاطائل من وراء هذه المؤتمرات والجهود الفاشلة للعدوّ. ولیعلم المحتلّون بأنّ تواجد قواتهم المحدودة في القواعد العسکریة المزمع إبقاؤها في أفغانستان غیرمقبول، وسیشتدّ الجهاد المسلح الجاري ضدّ هذه القواعد أکثر وأکثر.
إنّ الشعب الأفغاني المجاهد الآن یدرک الحقائق بشکل جید، ولن ینزلق في مصائدکم الخبیثة إن شاء الله، ولذلک نهیب بکل من یناصرالعدوّ، أو یقف في صفوفه بسبب الجهل، أن یترکوا مناصرة العدوّ مثلما فعل الآلاف من أصحابهم، وأنّ حضن الإمارة الإسلامیة مفتوح أمامهم في کل وقت، فبدل أن یُقتلوا في صفوف الکفار لیخسروا دینهم ودنیاهم، خیرلهم أن یقفوا إلی جانب شعبهم لیکتسبوا العزّ والفخر في الحیاة والمماة.
وإنّنا نطلب من المجاهدین أن یقومواعن طریق علماء الدین، وزعماء العشائر والقبائل والوجهاء بتوعیة الجنود، والشرطة، والميلیشيات المحلیة، وأن یدعوهم إلی ترک صفوف المحتلّین والعودة إلی جانب شعبهم لیکتسبوا شرف المشارکة في تحریر البلد وقیام النظام الإسلامي.
أیها الشعب المسلم!
إنّ إمارة أفغانستان الإسلامیة تطمئنکم بأنّها تسعی لتحریر البلد وإقامة نظام إسلامي حرّ ذي کفاءة فيه، والذي سیشمل جمیع الأفغان، وسیُشکّل رفاه الشعب، والتقدم، والعدالة الاجتماعیة، وتفویض الأمور إلی أهلها النقاط الأساسیة من برنامجه، وأنه سیضمن حقوق جمیع فئآت الشعب بشکل صحیح، وسیوطد العلاقات الحسنة مع دول المنطقة، والعالم، وبخاصة مع دول الجوار في ضوء الأصول الإسلامیة والمصالح الشعبیة في إطار الاحترام المتقابل، وأنّه سیهتم بالبنیة التحتیة للبلد، وعلى الأخص بالاقتصاد، والصناعة، والتجارة.وعلی العموم فإن ذلک النظام سيعمل في سبیل التقدم المادي والمعنوي للشعب والبلد.
إنّ الجهة المخولة الوحيدة من قبل الإمارة الإسلامية للارتباط بالعالم هو المکتب السياسي للإمارة الإسلامیة فقط، فکل من یزعم تمثیل الإمارة الإسلامية، أویسعی لفتح المکتب في أي مکان آخر، فإنّه لایمثل الإمارة الإسلامیة، والارتباطات بالأشخاص الغيرممثلين لیست سوی إضاعة للوقت، ولاطائل من ورائها. وکذلک کل من یتحدث بإسم الإمارة الإسلامیة سوی المتحدّثین الرسمیین للإمارة الإسلامية، وسوی مسؤولي المکتب السیاسي، أویُبین سیاسة الإمارة الإسلامیة، أویقوم بتوطید العلاقات مع الجهات المخالفة من غيرمسؤولي المکتب السياسي، أو یؤيد الانتخابات بإسم الإمارة الإسلامية، فإنهم لایمثلوننا، ولاعلاقة لهم بنا، بل هم أناس یقومون بهذه الأعمال لکسب الشهرة والحصول علی المادّیات.
وفي النهایة أهنّئ مرة أخری الشعب الأفغاني والأمة الإسلامیة من صمیم الفؤاد بحلول عید الأضحی المبارک، وأهیب بالأخوة الموسرین والأغنیاء ألّا ینسوا في أفراح العید إخوانهم الفقراء، والمساکین، وأسر الشهداء، وأن یساعدوهم بما یستطیعون. کما أرید من إخواني المجاهدین أن یشدّدوا من أواصر المحبة والخدمة والرحمة مع شعبهم العطوف الغیّور المحبّ للدین والوطن، وأن یلتزموا باللوائح والأصول الصادرة لهم من القیادة. ونسأل الله تعالی أن يعز الإسلام والمسلمين في كل مكان. آمين. والسلام علیکم ورحمة الله وبرکاته.
                                        خادم الإسلام أمیر المؤمنین الملا محمد عمرالمجاهد
۱۴۳۴/۱۲/۸ هـ ق
۱۳۹۲/۷/۲۱ هـ ش
۲۰۱۳/۱۰/۱۳م
 ____________

URDU:

عیدالاضحی ۱۴۳۴ھ کی مناسبت سےعالیقدرامیرالمؤمنین حفظہ اللہ کاپیغام

 PASHTO:

د لوی اختر د را رسیدو په مناسبت د عالیقدر امیر المومنین حفظه الله د مبارکۍ 
 پیغام
تفصيل

نېټه: یک شنبه, 13 اکتوبر 2013 18:57
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدلله رب العلمین  والصلوة والسلام علی رسوله محمد وعلی آله  وأصحابه ومن والاه و من اتبع  هداه إلی یوم الدین ،أمابعد
     فأعوذ بالله من الشیطن الرجیم. بسم الله الرحمن الرحیم  (  يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ) (8) صدق الله العظیم . سورة الصف.   الله أکبر  الله أکبر لا إله إلاالله والله أکبر الله أکبر ولله الحمد.
    مؤمنو هیوادوالواوټول اسلامي امت ته !
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته !
      له هرڅه وړاندې تاسو ټولو ته  دلوی اختر دمبارکو ورځو په مناسبت  مبارکي وایم، الله تعالی دې د ټولو عبادات په خاص ډول د حجاجو کرامو حج، او د مجاهدینو قر بانۍ او سر ښندنې، د شهیدانو شهادتونه، د اسیرانو اسارت او د زخمیانو تکلیفونه په خپل لوی دربار کې  قبول کړي . الله جل جلاله ته سوال کوم چې د شهیدانو کورنیو  ته صبر او اجر ور په برخه کړي، اسیران په خپل فضل سره له اسارت نه راخلاص، او زخمیانو ته عاجله شفا نصیب کړي او الله پاک دې  ټول په اسلامي نظام، سوکالۍ او آرامۍ و نازوي.
 مسلمانانو وروڼو !
      د لوی اختر د خوښیو ورځې شپې په داسې حال کې لمانځو  چې  زموږ د هیواد تر څنګ په نړیواله سطحه اسلامي امت له خورا ډیرو مشکلاتو سره مخامخ دی، له یوې  خوا د ټول امت پر خلاف  د دښمنانو یرغلونه، دسیسې او ظالمانه اعمال جریان لري، او له بلې خوا په خپل منځ کې بې اتفاقي، بدبیني، تفرق، غداري  او‍ د اسلام د دښمنانو په لومه کې ښکېلتیا هغه مهلک امراض دي چې د امت بدن ته رسېدلي دي .
     د حج مبارکه او باعظمته اجتماع موږ ته  درس را کوي چې د دښمنانو تبلیغات، شیطاني افکار، بې اساسه شکونه،  قومي ، لساني سمتي، نژادي، مذهبي او نور تعصبونه  له  ذهنه وباسو، د خودخواهۍ، بدبینۍ او تفرق ذهنیت لري کړو، او یوازي د اسلام تر مبارک شعار لاندې  یو له بل  سره  خپله همدردي او خواخوږي وښیو، د امت  ټولې ناخوالې او مشکلات له همدې لاري حل کړو، راځئ په اسلام  ټینګې  منګولې ولګوو او د اسلام د لارښوونو په اساس  د نجات  واقعي لار ولټوو .
   د حق د لارې  اتلو او سر سپارلو مجاهدینو!
       لومړی د الله جل جلاله د مرستې او بیا ستاسو د بې دريغه قربانیو او سرښندنو  او د ولس د ټینګ ملاتړ په نتیجه  کې د یرغلګر د ښمن زور مات شوی، د فتحې شېبې نور  ان شاء الله  ورځ تر بلې را لنډېږي، تاسو باید دغه شېبې الله ته په شکر او خپل ولس ته په خدمت کولو ولمانځئ، تر څو د لا زیاتو الهي عنایاتو مستحق وګرځو.
زما توصیه  ټولو  مجاهدینو ته دا ده چې د یرغلګر دښمن پر وړاندې نور هم ټینګ ودرېږئ، او کلک ګوزارونه پرې وکړئ، خپل مجاهد ولس نور هم ځان ته لنډ کړئ، تر څو هغه لوړ هدف  ته ورسېږو چې هغه د هيواد خپلواکي او له اهلو کسانو جوړ د يو خپلواک اسلامي افغان شموله نظام قائمېدل دي،  د کوم لپاره چې له کلونو راهیسي خپل مقدس جهاد پر مخ  وړو.
مؤمنو افغانانو !
  غواړم د سږني لوی اختر د مبارکۍ  ترڅنګ په هيواد کې د روانو ناخوالو په سلسله کې لاندې څو ټکي له تاسو سره شریک کړم :   
          د تېرو دولسو کلونو په جریان کې یرغلګرو د لسهاوو زره  افغانانو  وینې په ناحقه تویې کړې، په لسهاوو زره یې زندانونو ته واچول، کلي، ښارونه، مدرسې او جوماتونه یې بمبار کړل، څو څو ځله یې د مسلمانانو د مقدساتو  په ځانګړي ډول د قرآن کریم سپکاوی وکړ،  زمونږ د هېواد مهم کانونه او معادن یې چور کړل، د ولس پر  سر  یې داسې یوه بې کفایته او بې صلاحیته اداره مسلطه کړه چې  لوړ پوړي چارواکي یې په اداري فساد، اختلاس، د ځمکو غصب، د مخدره موادو په  قاچاق او تولید، د ځنګلونو، کانونو او تاریخي اثارو   په خرڅلاو کې په منظم ډول ښکېل دي.
     دا جنایات د اشغالګرو د یوه منظم پروګرام برخه ده، دوئ غواړي په دې توګه  د خپل اوږد مهاله شتون لپاره زمینه سازي  وکړي، او افغانان په دائمي احتیاج  مبتلا کړي، همدا راز  یې د فرهنګ، مطبوعاتو او روزنې په برخه کې هم داسې پروګرامونه په کار اچولي چې  ولس له معنوي سقوط او فکري بیلارۍ سره مخامخ کوي .
   د یرغلګرو په پیسو چلیدونکو مطبوعاتو ټوله توجه دې ته ده چې، د ښځو او ځوانانو د حقوقو تر عنوان لاندې د بې حجابي او اختلاط غربي کلتور په افغان ولس تحمیل کړي، او له خپلو اسلامي اصولو او ملي کلتور نه یې پردی  کړي، او د همدې مطبوعاتو له لارې د ولس تر منځ  قومي، سمتي او لساني نفرتونه را پورته کړي، او خپل منځي اتحاد ورځنې وتروړي، تر څو په دې توګه  دلته خپل  پاتې کيدل  او اشغال دائمي  او اسانه کړي .
د کابل ادارې او یرغلګرو نه یوازې په کور د ننه د افغانستان د تباهۍ  لپاره مټې رانغښتې دي بلکې د استعماري تړونونو په لاسلیکولو سره  هېواد په نړیواله او سیمه ایزه کچه  منزوي کوي او د جنګ د دوام اسباب  برابروي، ځکه خو  باید یرغلګر او ملګري یې په دې سر خلاص کړي چې د ستراتېژیک تړون لاسلیکول به د دوئ لپاره بد عواقب ولري، که دوئ هر څو په دا ډول سندونو د خود ساخته جعلي لویو جرګو د تائید مهرونه ولګوي افغانانو ته ځکه د منلو ندي چې د دې هیواد وا قعي نماینده ګان او واقعي لویې جرګې د تاریخ په اوږدو کې کله هم د خپلې غلامۍ دا ډول سندونه ندي لاس لیک کړي؛ نو څوک چې دا کار کوي هغوئ ته د دې هیواد نماینده لویه جرګه نشي ویل کیدای، ځکه یې پریکړې هم د منلو وړنه دي ، اشغالګر باید پوه شي چې د دوئ محدودې اډې هم په هیڅ صورت د منلو وړ نه دي او په مقابل کې به یې همدا وسلوال جهاد نور هم قوي کېږي.
     د دې لپاره چې خپل دیني، ملي او انساني مسؤلیت مو رفع کړی وي، د افغانستان بقاء او د سیمې او نړۍ امن  مو تضمین کړی وي، د ولس آزادي، سرلوړي  او سیاسي استقلال مو ترلاسه کړی وي، او خپل ولس ته مو له دې خطرناک حالت څخه نجات ورکړی وي، ټول افغانان باید لاسونه سره ورکړي، د یرغل د خاتمې او د دې ټولو بدبختیو، بدبینیو او له شرمه ډک وضعیت د ختمولو لپاره مشترکې هڅې وکړي، او د یوه خپلواک اسلامي افغاني نظام د رامنځته کولو لپاره زمینه برابره کړي .
    په هېواد کي د اشغال تر سیوري لاندې د انتخا باتو په نامه چي کومه  د ولس غولونې دسیسه روانه ده هېڅ کله به افغان ولس پرې ونه غولېږي؛ ځکه چې هغه څېرې پکې فعالې دي کومې چې د اسلامي او ملي ګټو پر ځای  د اشغالګرو او خپلو شخصي ګټو ته  ډېر  ژمن دي، حتی ځينې خو یې قدرت ته د رسیدلو په موخه د کفارو د خوشحالۍ لپاره د اسلام د مقدس دین د احکامو د تحریفولو کو ښښ هم کوي، ولس پوهيږي  چې په سر نوشت یې څو پردي پال لوبي کوي، په انتخاباتو کې نه  د دوئ  رایې ارزښت لري او نه  پکې ګډون کول فایده کوي؛ نوبناء اسلامي امارت دغه انتخابات ردوي او له ولس نه غوښتنه کوي چې ګډون پکې و نه کړي، ځکه  دا هسې یوه ډرامه ده چې یرغلګر یې د خپلو موخو د ترلاسه کولو لپاره تر سره کوي .
   امریکا او ملګري یې اصلا په انتخاباتو باور نه لري، دوئ  هلته د انتخاباتو  پایلو ته  ژمن دي چېري چې د دوئ موخې تر لاسه کېږي، کله چې نه تر لاسه کېږي بیا کوښښ کوي د سازش له مخې ټولنې له ولسي حکومتونو څخه محرومې کړي، د دې لپاره ډېر مثالونه شته، چې لنډ او ژوندی مثال یې د مصر  انتخابات دي، ټولو ولیدل چې له منتخب حکومت سره يې څه وکړل! 
د سوله ایزو لارو د خپلو مشروع  حقونو غوښتونکي  په زرګونو مصري مسلمانان په ډېر ظلم سره شهیدان، زخمیان او زنداني کړل شول، او دا لړۍ لا  هم جریان لري، خو د دیموکراسۍ علمبردار حکومتونه یې ننداره کوي.
   غیرتمنو افغانانو ! 
    په دې ورستیو کې یرغلګرو او ملګرو یې  په هېواد کې داسې یوه هڅه پیل کړې چي د اسلامي هیواد د حریم څخه دفاع او د یرغلګرو کفارو په مقابل کې جهاد او مقاومت یو غیر شرعي عمل وښیي، د افغان ولس د خاورې له اشغال نه د نړۍ او ولس پام په بله واړوي، له اشغال سره  مبارزې ته د افغان کورنۍ جګړې نوم ور کړي، دوئ غواړي  لمر په دوو ګوتو پټ کړي، د کابل  اداره د څو پلورل شوو څیرو د نمایشي  کنفرانسو په  وسیله  غواړي  په افغانستان کې  د ۴۹ هیوادونو مستقیم پوځي او هر اړخیز یرغل ته فاسد توجیهات  برابر کړي، خو د دغو کنفرانسونو متصدیان  دي پوه  وي  چې  اوس ان شاء الله د الله تعالی په نصرت سره  د افغان  ولس  د فتحې  شېبې  رارسېدلې دي، چې  هغه  د یرغلګرو ماتې او د یوه  خپلواک اسلامي نظام حاکمیت  دی؛ ځکه خو د دوئ دا ډول ناکامې او بې ځایه هڅې کومه ګټه نه لري، افغان مجاهد ولس اوس الحمد لله حقایق ښه درک کړي، هيڅکله به د دښمن  د ناوړه دسیسو  ښکار نشي، له همدې وجې مونږ پر ټولو هغو کسانو غږ کوو چې د یرغلګرو ملاتړ کوي، او یا په ناپوهۍ کې له هغوئ سره ولاړ دي، چې د خپلو زرهاوو ملګرو په څېر  د هغوئ له ملاتړ نه لاس واخلي، د اسلامي امارت پراخه غېږ هر وخت د دوئ پر مخ پرانیستې ده، د دې پر ځای چې د کفارو په صف کې وژل کېږي، هم یې دین خراب شي او هم دنیا، آیا ښه نه ده چې د خپل ولس تر څنګ ودرېږي چې مرګ او ژوند دواړه یې د ټولو لپاره ویاړ  وګرځي.
     مونږ  پر خپلو مجاهدینو غږ کوو چې د علماء کرامو، قومي مشرانو او مخورو په واسطه د اردو عسکر ، پولیس او اربکیان پوه کړي چې د یرغلګرو له صفونو د ولس لوري ته راشي، تر څو د هېواد د خپلواکۍ او  د اسلامي نظام د قایمیدو په تاريخي ویاړ کې شریک شي.
 مؤمنو هېوادوالو:
      د افغانستان اسلامي امارت ټولو افغانانو ته ډاډ ور کوي چې د هېواد د خپلواکۍ او د یوه داسې خپلواک اهلیت در لو دونکي اسلامي  افغان شموله نظام د قایمېدو لپاره  هڅې کوي، چې د ولس سوکالي، پرمختګ، اجتماعي عدالت، پرته له تبعیض نه کار اهل کار ته سپارل یې د تګلارې اساسي ټکي وي، د ولس د ټولو وګړو  ټول حقوق په سمه توګه تضمین کړي، له سیمې او نړۍ په ځانګړي ډول له ګاونډیانو سره د متقابل احترام، اسلامي اصولو او ملي ګټو په رڼا کې ښې اړیکې ولري، د هیواد زیر بناوو په ځانګړې توګه اقتصاد، صنعت او تجارت ته ځانګړې پاملرنه وکړي، په مجموع کې داسې یو نظام چې د ولس او هېواد د معنوي او مادي پرمختګ لپاره کار وکړي .
له نړيوالو سره د تماس لپاره مو یوازې د اسلامي امارت  سیاسي دفتر ته دنده سپارلې ده، په دې برخه کې که بل هرڅوک په هر ځای کې د اسلامي امارت په نامه، د دفترخلاصولو کوښښ کوي هغوئ د اسلامي امارت نمایندګي نشي کولای، له غیر نماینده افرادو سره تماسونه د وخت ضایع کول دي او هیڅ ګټه نلري، همدارنګه که داسلامي امارت له رسمي ویندویانو او دسیاسي دفترله مسئولو کسانو علاوه بل څوک د اسلامي امارت په نامه داسلامي امارت پالیسي بیانوي، او یا له سیاسي دفتر پرته بل څوک له مخالفو لوریو سره تماسونه ټینګوي، یا څوک د اسلامي امارت په نامه دانتخاباتو ملاتړ کوي ،هغوی زموږنماینده ګان نه دي اونه هم له موږ سره تماس لري بلکي دا ډول کسان  دځان دشهرت او مادیاتو تر لاسه کولو په خاطر  دا کار کوي
    په پای کې يوځل بیا ټولو هیوادوالو او مسلمان امت ته  د زړه له کومي د لوی اختر مبارکي وايم، له شتمنو وروڼو غواړم چې د خوشحالۍ او قربانۍ په دې  اختر کې خپل بې وزله او مسکين وروڼه ، د شهيدانو او بندیانوکورنۍ او محتاج  هیوادوال  له خپلو نېکیو او مرستو نه هېر نکړي، د امکان ترحده ورسره همکاري وکړي، او مجاهدین وروڼه دي نورهم له خپل مهربانه، غیرتمن، په اسلام او وطن مین ولس سره د نزدېکت، ښو اړیکو، مهربانۍ، محبت او خدمت مزي ټینګ کړي، او په ورکړل شویو اصولو دې کلک عمل وکړي . والسلام.
د اسلام خادم امیر المومنین ملا محمد عمر مجاهد
۱۴۳۴/۱۲/۸ هـ ق
۱۳۹۲/۷/۲۱ هـ ش
۲۰۱۳/۱۰/۱۳