Thursday, October 31, 2013

Tehrik-i Taliban Pakistan Leader Hakimullah Mehsud's 'Eid al-Adha 1434 Message





بسم اللہ الرحمن الرحیم

تحریک طالبان پاکستان

امیرمحترم حکیم اللہ محسود حفظہ اللہ کا 
عید الاضحیٰ (۱۴۳۴ھ، اکتوبر ۲۰۱۳) کے موقع پر پیغام


تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے انسان کو صرف ایک اللہ کی عبادت کی بنا پراشرف المخلوقات بنایا اور اللہ کے علاوہ کسی کی پرستش اور اسکےقانون پر فیصلوں کی صورت میں اسی انسان کو چوپایوں سےبھی بدترقراردیا۔

میں تمام امت مسلمہ کو عید الاضحیٰ کے عظیم موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

امت کے قابل قدر نوجوانو!محترم بزرگو ، عفت مآب ماؤں اور بہنو!عید الاضحیٰ امت مسلمہ کو ایک عظیم تاریخ یاد دلاتی ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ہمارے لئے اسوہ اور نمونہ چھوڑا ہے،اسلام کی چودہ سو سالہ شاندار تاریخ اس پرعمل پیرا ہونے والوں کی قربانیوں کے ذکر سے بھری پڑی ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانثار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی اسلام کی خاطر بے مثال قربانی کی تاریخ کے تسلسل میں قرون اولیٰ میں حسین ابن علی ؓ،امام ابو حنیفہؒ،امام احمد بن حنبل ؒ،محمد نفس ذکیہؒ،علامہ ابن تیمیہؒ سے لیکرقرون اخریٰ میں سید احمد شہیدؒ،امام شاملؒ، شخ الہندؒ،شیخ اسامہ شہیدؒ،غازی عبدالرشید شہیدؒ امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ اورامیر بیت اللہ محسود شہیدؒ نمایاں ہیں۔
یہ اور ان جیسے ہزاروں اساطین امت اسوہ ٔابراہیمی پر عمل پیراہوتے ہوئے ہر دور میں با طل کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوئے اوراسلام اور مسلمانوں پرحملہ آور فتنوں کو پسپا ہونے پر مجبور کرتے رہے۔
آج پوری دنیا پر کفار کا غلبہ اور تسلط ہےاسلام اور شریعت کو نماز،روزے اورحج تک محدود کر دیا گیا ہے دین و شریعت اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے قانون کی عملداری کے بغیر کوئی شے نہیں رہتی،مگر اب ایسی شریعت کا تصور محال ہو چکا ہے،اسکے نفاذ کی باتوں اور اسکی خاطر مسلح جہاد و قتال کےتذکرےسےنام نہاد مذہبی علمبرداروں کو بھی سانپ سونگھ جاتا ہے۔
امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ نے آج سے بارہ سال پہلےصرف ایک مجاہد کی خاطرپوری اما رت اسلامیہ کی قربانی دیکر اس دور میں اسوہ ٔابراہیمی پر عمل پیرا ہونے کی جو عظیم مثال پیش کی تھی، الحمد للہ آج امت مسلمہ دنیا کے کونے کونے میں خلافت اسلامیہ کے قیام کیلئےجاری مجاہدین کی منظم جدوجہد کے نتیجے میں اسکے ثمرات پارہی ہے،اور بہت جلد د نیا ایک عظیم تر اسلامی خلافت کا نقشہ دیکھنے کو ہے جو کوہ قاف سے لیکر افریقہ کے صحارا تک پھیلا ہوا ہو گا۔ انشأاللہ۔
عید کے اس موقع پر میں امت مسلمہ کو خاص طور پروصیت کرتا ہوں کہ وہ اسوہ ٔابراہیمی پر حقیقی طور پر عمل پیرا ہونے کا تہیہ کر لیں جو کہ مجاہدین اسلام کی صفوں میں شامل ہوئے بغیر ناممکن ہے۔
شام ،مصر، برما اور ہندوستان میں مسلمانوں پر جاری مظالم پر اقوام عالم کی معنی خیز خاموشی افسوسناک ہے، اس صورتحال سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف یہ سب حقیقتاً ایک صف میں کھڑے ہیں،دنیا کے کسی بھی کونے میں ایک عیسائی کی موت پر آسمان سر پر اٹھانے والے ان خطوں میں لاکھوں مسلمانوں کی نہایت دردناک انداز میں شہادتوں پرزبانی جمع خرچ سے آگے نہیں نکل سکے،او آئی سی کے نام سے قائم نام نہاد اسلامی اتحاد کا کردار بھی انکے آقا اقوام متحدہ سے مختلف ہرگز نہیں ہے، امت کو پیش آنے والے شدیدترین سانحات میں یہ لوگ ہمیشہ چندقراردادیں پیش کرنے کے علاوہ آج تک کچھ بھی نہ کر سکے،دراصل اس اتحاد میں شامل نام نہاد مسلم رہنما انہی کفار کے ایجنٹ اور انکے پروگراموں کو عملی جامہ پہنانے کے حقیقی کردار ہیں۔
کفار و مرتدین کے مظالم کا پامردی سے مقابلہ کرنے والےمجاہدین اسلام کونہایت تاکید و اصرار کے ساتھ مسلسل امن اور رواداری کی تعلیم دینے والے نام نہاد مذہبی رہنمایان اور اسکالران اندوہناک سانحات کا کیا پر امن حل پیش کریں گے؟اے نوجوانان امت!خوب یاد رکھو!ان مظلومین کی فریاد کا جواب جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ کوئی دوسری بات ہرگزنہیں ہو سکتی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ۔۔۔
ترجمہ:اورتمہیں کیاہوگیاہےکہ تم اللہ کےراستےمیں کمزورمردوں،عورتوں اوربچوں کی خاطر نہیں لڑتے۔

پاکستان جسکی بنیاد لا الٰہ الاّ اللہ پر رکھی گئی تھی اور جس کے قیام کیلئے سترہ لاکھ مسلمانوں نے جانوں اور عزتوں کی قربانیاں دیں، اپنے قیام کے وقت سے ہی لا الٰہ الاّ اللہ کے نظام کیلئے بے چین وپریشان ہے،اس میں رہنے والے سادہ لوح مسلمانوں کو اسلامی جمہوریت کے نام پر محض نماز،روزے وغیرہ کی آزادی دیکراس ملک کے اسلامی ہونے کا شرمناک دھوکہ دیا جاتا رہا،اس فاسد نظام کے تحت ہمیشہ ملک کے جاگیردار اور سرمایہ دار طبقے نے غریب عوام کا فکری اور معاشی استحصال کیا،آج جہاں ایک طرف اسلام کے نام پر حاصل کردہ اس ملک میں فحاشی، عریانی اور لادینیت اپنی آخری حدوں کو پہنچ چکی ہےتو وہیں دوسری طرف ملک کے غریب عوام ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں،کثیر زرمبادلہ رکھنے والا ملک انکی مسلسل لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے اداروں کے ہاتھوں گروی بن چکا ہے۔
افسوس تو ملک کے دانشوروں،علما کرام اوراس سنجیدہ طبقے پر ہے جو اس پوری تباہی کا مسلسل مشاہدہ کرنےکے بعد بھی اس ساری خرابی کا حل اسی فاسد نظام میں ہی تلاش کرنے پر مصر ہیں۔ ۔

؎ بیمار ہوئے تھےجس کے سبب اسی عطار کے فرزند سے دوا لیتے ہیں

گرامی قدر بزرگو! اور امت کے قابل فخر نوجوانو!یاد رکھو دین ودنیا کی اسقدر بڑی تباہی کا خاتمہ اسوہ ٔابراہیمی پر عمل کیے بغیر ناممکن ہے۔

امام برحق غازی عبدالرشید شہیدؒ اور لال مسجد کے سینکڑوں شہدا نے اپنے پاکیزہ لہو کی قربانی دے کر اس سنت کو زندہ کیا توآپ نے دیکھا کہ نفاذ شریعت کی تحریک کی بنیادیں پاکستان میں مستحکم ہو گئیں،تحریک طالبان کے ہزاروں مجاہدین وانصار نے قبائل سےلیکر پاکستان کے ہر کونے میں مسلسل قربانی کے ذریعے اس عظیم تحریک کو الحمدللہ اس نہج پر پہنچا دیا ہےکہ اب پاکستان کا حکمران طبقہ اس تحریک کو اپنے لئے واضح خطرہ سمجھ چکا ہےان کو اپنی ناؤ صاف ڈوبتی نظر آ رہی ہے۔

ملک کے طول و عرض میں طالبان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف ہو کرانہوں نے مجاہدین اسلام سے مسلمان عوام کوبدظن کرنے کیلئے کئی قسم کے شیطانی ہتھکنڈے اختیار کرنا شروع کردیے ہیں:
۔۱۔ عام مقامات پر حملے:عوامی مقامات اورمسلمانوں کے بازاروں میں خفیہ ایجنسیوں ،شیعہ اور دیگر اسلام دشمن گروہوں کے ذریعےبم دھماکے کرواکر اسکا الزام تحریک طالبان پر ڈالتے ہیں،قصہ خوانی بازار پشاور، کوئٹہ لیاقت بازار، لاہور انار کلی دھماکے اسکی تازہ ترین مثالیں ہیں،ہم ایسے تمام حملوں سے مکمل طور پر اظہار برا ت کرتے ہیں۔
۔۲۔بھتہ وصولی:پشاور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں تحریک طالبان کے نام پر مالدار مسلمانوں سے دھمکی دیکر پیسے وصول کئےجا رہے ہیں،حکومت اس مکروہ دھندے میں بھی اپنے انہی ایجنٹوں کو استعمال کر رہی ہے جو مسلمانوں کےبازاروں میں دھماکے کر رہے ہیں،اس طرح کے کئی کیس میڈیا کے ذریعے بے نقاب ہو چکے ہیں۔

ہم مسلمان کے مال کی حرمت اسکی جان کی طرح سمجھتے ہیں لہٰذا ایسےواقعات سے بھی اظہار برات کرتے ہیں اور مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسے معاملات میں ہم سے بلا خوف و خطر براہ راست رابطہ کر کے تحریک طالبان کی دار القضأ میں اپنا مقدمہ پیش کر سکتے ہیں اوران سے گزارش کرتے ہیں کہ ایسے عناصر کی نشاندہی میں ہماری مدد کریں تاکہ انکی مکمل بیخ کنی کی جا سکے۔

۔۳۔جھوٹا میڈیا پروپیگنڈہ:سادہ لوح عوام کے ذہنوں میں میڈیا کے ذریعے مجاہدین اسلام کی نہایت غلط تصویر پیش کی جا رہی ہے ،اپنے زرخرید ایجنٹوں کے ذریعے تحریک طالبان کے خلاف مسلسل اتنا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہےکہ جس سے پاکستان کے سادہ لوح عوام اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی خاطر اٹھنے والی اس تحریک کو ہی اسلام دشمن اور مسلمانوں کی قاتل جماعت سمجھ بیٹھے۔

علاوہ ازیں بعض نام نہاد مذہبی جماعتیں اور ادارے باقاعدہ فکری اور نظریاتی طور پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی مذموم کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اس مقصد کیلئے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی بے بنیاد تشریحات اور انکےنہایت اوکھے مصداقات بیان کیے جا رہے ہیں، مجاہدین اسلام اپنے موثردعوتی پروگرام اور محدود میڈیا کے ذریعے اس پروپیگنڈے کابھر پور جواب دے رہے ہیں،اگر مجاہدین ثابت قدم رہے اور اخلاص و تقویٰ کا دامن نہ چھوڑیں تو انشأاللہ اس محاذ پر بھی دشمن جلد شکست کھا جائیگا۔

عسکری میدان میں شکست کے بعد جب ایسےتمام شیطانی ہتھکنڈے بھی بیکار ثابت ہوئےتو اب حکومت نے مجبور ہو کر طالبان سے مذاکرات اور معاہدوں کی بات شروع کردی ہے۔
اس حوالےسےتحریک طالبان کامؤقف نہایت واضح ہے۔

۔۱۔ہم سنجیدہ اور با مقصد مذاکرات پر ہمیشہ یقین رکھتےہیں۔

۔۲۔اس حوالے سے حکومت کو امریکہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ سے مکمل آزاد ہو کرمذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہو گا۔

۔۳۔مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر میڈیامیں طالبان کے خلاف مختلف حیلوں اور بہانوں کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈا ہرگز منظورنہیں کریں گے۔

۔۴۔مذاکرات کیلئے ملک اور قوم کے سنجیدہ اور قابل اعتماد اشخاص میں سے جسکو بھی آگے بڑھایا جائے انکا قدر و احترام کریں گے۔

۔۵۔ماضی میں کئے گئے معاہدوں میں حکومت اور فوج نے سنگین خلاف ورزیاں اور خیانتیں کیں جسکا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے، اب کی بار ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو یقیناً اسکا نقصان نا قابل تلافی ہو گا۔

۔۶۔جنگ بندی کیلئے ہر وقت تیار ہیں بشرطیکہ ڈرون حملے بھی رک جائیں،اسلیےکہ یہ حملے آئی ایس آٓئی اور فوج کی مکمل مرضی اور انکی بھرپور نشاندہی سے ہو رہے ہیں، ممکن ہے کہ فوج اورآئی ایس آئی سیاستدانوں کو گمراہ کر رہے ہوں کہ یہ ہمارے اختیار میں نہیں۔

۔۷۔شرائط اور مطالبات کی باتیں قبل ازوقت ہیں ،مذاکرات کی میز پر بیٹھنےسے قبل حکومت کی کوئی شرط مانتے ہیں اور نہ خود کوئی شرط عائد کرتے ہیں۔
پاکستان کے مسلمان اور عوام اس ملک پر شریعت کی بالا دستی دیکھنا چاہتے ہیں، شریعت کی بالا دستی میں قوم اور ملک کی سلامتی اور خوشحالی پنہاں ہے،مسلمان ہوں یا غیرمسلم ان کا تحفظ اور انکے حقوق کا حصول شریعت کے بغیر ناممکن ہے۔
تحریک طالبان اس دھرتی پر قیام خلافت اور نفاذ شریعت کی ضامن تحریک ہے۔

میں امت مسلمہ کے ہر خاص و عام فرد سے اپیل کرتاہوں کہ وہ اس مقدس قافلے میں شریک ہوکر اپنی صلاحیت اور توانائی اسلام کی آبیاری کیلئےصرف کریں۔۔۔

والسلام اخوکم
 حکیم اللہ محسود (حفظہ اللہ)
(مرکزی امیر تحریک طالبان پاکستان) 
عید الاضحی ۱۴۳۴ھ، اکتوبر ۲۰۱۳






المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
مآخذ : (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)

الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين
مجاہدین کی خبروں کی مانیٹرنگ کرنا اورمؤمنین کو ترغیب دلانا  

No comments: