Monday, November 23, 2009

Swat Taliban's Maulana Fazlullah Escapes Pakistani Military & Reaches Afghanistan

Maulana Fazlullah, also known as Mullah Fazlullah, in a statement issued November 17 to have escaped the clutches of the Pakistani military and reached safety in insurgency-torn Afghanistan. He is the leader of Tehrik-i Nafaz-i Shariat-i Muhammadi ["Movement for the Enforcement of Islamic Law"], a Pashtun radical movement usually referred to as the "Swat Taliban," after its base in the Swat Valley in Pakistan's Federally-Administered Tribal Areas (FATA). Fazlullah commanded several thousand Pashtun militiamen and supported the implementation of his own radical interpretation of religious law and social codes. The Pakistani military launched a massive offensive campaign in the Swat Valley against Fazlullah's group in May, killing (it claimed) hundreds of his paramilitaries and creating a huge refugee population as civilians fled areas of intense fighting. Fazlullah's apparent flight from Swat suggests that the military has been at least partially successful in eradicating his bases of support there.

Although Afghanistan and Pakistan are not my own research focus, I have decided to post related materials here on Views from the Occident's subsidiary blog in case they are of use to others. The statement, in Urdu (I believe, but please correct me if I'm wrong), is below:



صوبہ سرحد کے ضلع سوات کے روپوش طالبان سربراہ مولانا فضل اللہ افغانستان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جہاں پر ان کے بقول وہ محفوظ ہیں۔ موبائل فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل اللہ نے کہا کہ وہ ’بحفاظت افغانستان پہنچ چکے ہیں‘۔
مولانا فضل اللہ نے جس موبائل نمبر سے فون کیا تھا اس کا کوڈ افغانستان کا تھا جبکہ نمبر وہاں کے کسی موبائل نیٹ ورک کا تھا۔
افغانستان کے ایک نامعلوم مقام سے انہوں نے تحریری بیان پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ سوات میں سکیورٹی فورسز کے خلاف جلد چھاپہ مار کارروائیاں شروع کردی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوات میں کامیاب فوجی کارروائی کی دعویدار فوج کو پاکستانی سرزمین پر ہونے والے امریکی ڈرون حملے اور بلیک واٹر کی سرگرمیاں روکنی چاہیئیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ صوبہ سرحد کے وزیراطلاعات میاں افتخار حسین کی حالت سابق افغان صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کی طرح ہوگی۔
کسی پہاڑی سلسلے میں ہونے کی وجہ سے موبائل فون سگنلز درست طریقے سے نہیں آرہے تھے اس لیے ان سے بات کرنے کی خاطر دو درجن سے زیادہ مرتبہ ان کے نمبر کو ملانے کی کوشش کی گئی۔ ان سے مزید سوالات نیٹ ورک کی خرابی کی وجہ سے نہیں ہوسکے۔

یاد رہے کہ انیس سو چھیانوے میں کابل پر قبضے کے بعد طالبان نے ڈاکٹر نجیب اللہ کو اقوام متحدہ کے دفتر میں قتل کرکے ان کے اور ان کے بھائی کی لاشیں چوک میں لٹکا دی تھیں۔
مولانا فضل اللہ نے امریکی صدر اوباما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں افغانستان کے لیے مزید امریکی فوجی بھیجنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بقول ان کے لاکھوں پاکستانی فوجی اپنے ہی ملک کے اندر ان کے مقاصد پورے کرنے میں پہلے سے ہی مصروف عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ان کی تنظیم کا ترجمان عمر حسن احرابی ہوں گے۔
کسی پہاڑی سلسلے میں ہونے کی وجہ سے موبائل فون سگنلز درست طریقے سے نہیں آرہے تھے اس لیے ان سے بات کرنے کی خاطر دو درجن سے زیادہ مرتبہ ان کے نمبر کو ملانے کی کوشش کی گئی۔ ان سے مزید سوالات نیٹ ورک کی خرابی کی وجہ سے نہیں ہوسکے۔
یاد رہے کہ مولانا فضل اللہ کے بارے میں سوات کے معاملے کو قریب سے رپورٹ کرنے والے صحافیوں کو یہ شک تھا کہ وہ زخمی حالت میں سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں تاہم سرکاری طور پر اس بات کی تردید ہوتی رہی۔ان کے تازہ رابطے سے ان شکوک و شبہات نے بظاہر دم توڑ دیا ہے۔

اقتباس:بی بی سی اُردو نیوز




No comments: